السلام علیکم! مفتی صاحب!ہمارے معاشرے میں اکثر یہ کہا جا تا ہے کہ جن عورتوں کے بچے پیدائش کے فورا بعد فوت ہو جاتے ہیں ،تو ان کے قریب دوسری عورتیں نہ جائیں ،کیونکہ ان متاثرہ عورتوں سے وہ عورتیں بھی متاثر ہو جائیں گی کہ ان کے بھی بچے نہیں بچیں گے، یہ ٹھیک ہے؟
واضح ہوکہ جس عورت کے بچے پیدائش کے بعد فوت ہوجاتے ہوں ،اس کو منحوس سمجھنا اور دیگر عورتوں کو اس کے پاس جانے سے منع کرنا شرعاً درست نہیں ، بلکہ یہ عمل خدائی تقسیم پر معترض ہونے کے مترادف ہے اس لئے اس قسم کی واہیات سے احتراز لازم ہے۔
کما فی صحیح البخاری: حدثنا سعيد بن ميناء، قال: سمعت أبا هريرة، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا عدوى ولا طيرة، ولا هامة ولا صفر، وفر من المجذوم كما تفر من الأسد"(باب الجذام، رقم الحدیث،5707،ط: دار طوق النجاة)۔