ہم مکہ مکرمہ میں روزگار کے سلسلے میں موجود ہیں ، عمرہ کی سعادت حاصل ہوتی رہتی ہے، مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ اگرمدینہ شریف حاضری کے لئے جائیں تو واپسی پر کیا حکم ہے عمرہ کرنا پڑے گا ؟ اگر نہ کریں تو کیا حکم ہے ؟ رہنمائی فرمائیں !
سائل اور اس کے ساتھ کام کرنے والے دیگر حضرات مدینہ منورہ سے واپس آتے ہوئے اگر مکہ مکرمہ اور حرم شریف کے ارادے سے آئیں تو ایسی صورت میں ان کے ذمہ میقات سے گزرنے سے قبل عمرے کا احرام باندھ کر عمرہ کرنا لازم اور ضروری ہوگا ، اور اگر وہ بغیر احرام کے میقات سے گزر جائیں اور پھر احرام باندھنے کے لئے واپس میقات پر نہ آئیں تو ایسی صورت میں ان کے ذمہ دم لازم ہوگا اور ایک عمرے کی قضاء بھی لازم ہوگی ، البتہ سائل اور اس کے رفقاء کا مدینے سے واپسی پر اگر عمرے کا ارادہ نہ ہو تو وہ واپسی پر مکہ مکرمہ اور حرم شریف کا ارادہ کرنے کے بجائے " حل " کے کسی مقام کا ارادہ کریں ، چنانچہ اس طرح کرنے سے میقات سے گزرتے ہوئے ان کے ذمہ احرام باندھنا لازم نہ ہوگا اور پھر "حل “آنے کے بعد بغیر احرام باندھے ان کے لئے حرم شریف آنا جانا جائز اور درست ہوگا۔
کما فی الدر المختار : ( و حرم تأخير الإحرام عنها ) كلها ( لمن ) أي لآفاقي ( قصد دخول مكة ) يعني الحرم ( و لو لحاجة ) غير الحج أما لو قصد موضعا من الحل كخليص و جدة حل له مجاوزته بلا إحرام فإذا حل به التحق بأهله فله دخول مكة بلا إحراما الخ۔ ( ج۲ ، ص۴۷۶ ، کتاب الحج ، مطلب فی المواقیت ، ط۔ ایم سعید )۔
و فی رد المحتار : ( قوله أي لآفاقي ) أي ومن ألحق به كالحرمي والحلي إذا خرجا إلى الميقات كما يأتي فتقييده بالآفاقي للاحتراز عما لو بقيا في مكانهما، فلا يحرم كما يأتي اھ۔ (ج۲ ، ص۴۷۷ ، کتاب الحج ، مطلب فی المواقیت ، ط۔ایم سعید )۔
و فی فتح القدیر : ثم الآفاقي إذا انتهى إليها على قصد دخول مكة فعليه أن يحرم سواء قصد الحج أو العمرة أو لم يقصد عندنا؛ لقوله - عليه الصلاة والسلام -: «لا يجاوز أحد الميقات إلا محرما» ولأن وجوب الإحرام؛ لتعظيم هذه البقعة الشريفة فيستوي فيه التاجر والمعتمر وغيرهما، ( إلی قولہ ) ( قوله : و من دخل مكة بغير إحرام ثم خرج من عامه) حاصل الأحكام الكائنة هنا أربعة. أحدها: أنه لا يجوز؛ للآفاقي دخول مكة بغير إحرام. ثانيها: أن من دخلها بلا إحرام يجب عليه إما حجة أو عمرة. قال في البدائع: فإن أقام بمكة حتى تحولت السنة ثم أحرم يريد قضاء ما وجب عليه بدخول مكة بغير إحرام أجزأه في ذلك ميقات أهل مكة في الحج بالحرم وفي العمرة بالحل؛ لأنه لما أقام بمكة صار في حكم أهلها فيجزيه إحرامه من ميقاتهم. اهـ.۔ ( ج۳ ، ص۱۱۱ ، کتاب الحج ، باب مجاوزۃ الوقت بغیر إحرام ، ط۔ دارالفکر )۔