اگر طلاق کے تین دن بعد کسی لڑکی کا دوسرا نکاح ہو تو کیا وہ نکاح بغیر عدت کے جائز ہے ؟
سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں کہ نکاح کے بعد عورت کے ساتھ شوہر نے ہمبستری یا خلوت اختیار کی ہے یا نہیں، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر شوہر اپنی مدخول بہا بیوی کو طلاق دیدے تو اس پر عدت گزارنا شرعاً لازم ہے، دورانِ عدت اس لڑکی کا کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا شرعاً ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے، اگر شوہر کو اس کی عدت کا علم ہو اور اس کے باوجود اس معتدہ عورت سے نکاح کیا تو شرعاً ایسا نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوگا، لہٰذا اس نکاح کے بعد مرد اور عورت کا ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنا شرعاً جائز نہ ہوگا۔
کما فی الھندیۃ: لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة،كذا في السراج الوهاج. سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح، كذا في البدائع. الخ (کتاب النکاح ج 1 ص 280 ط: ماجدیہ )۔
وفی البحر الرائق: أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير؛ لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لكونه زنا كما في القنية وغيرها الخ (کتاب الطلاق ج 4 ص 156 ط: دار الکتاب)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0