السلام علیکم ! مجھے کبھی پیشاب کے بعد قطرے آجاتے ہیں ، لیکن جب میں چیک کرتا تھا تو اکثر وہ موجود ہوتے تھے اور اکثر میرا وہم ہوتا تھا ، یعنی ہر دفعہ ضروری نہیں ہوتاتھا کہ قطرے ہیں پر محسوس یا شک ہوتا تھا ، میں کچھ عرصہ پہلے حج پر گیا تھا اور حج تمتع کیا تھا ، میں جب مکہ میں ہوٹل کے کمرے سے نکلنے لگا عمرہ کی نیت سے تو مجھے محسوس ہوا کہ قطرہ نکل گیا ہے ، اور جب میں نے دیکھا تو وہ نکل گیا تھا ، میں نے احرام بدل کر دوبارہ پاک ہو کر وضوء کیا اور اس بار کمرے سے نکلنے سے پہلے اپنی پوری تسلی بھی کی ، دوبارہ پھر ہوٹل کی لفٹ میں مجھے محسوس ہوا اور شک پڑا کہ شاید قطرہ نکل گیا ہے ، پھر میرے پاس اب چیک کرنے کا کوئی موقع نہیں تھا سب کے سامنے اصلی میں نکلا ہے یا صر ف شک ہے ، احرام کی حالت میں واپس اوپر کمرے میں جا تا تو حرکت سے پتا نہیں چلتا کہ قطرہ نکلا بھی تھا یا نہیں میں نے سوچا کہ یہ میرا شک ہی ہوگا اور میں عمرہ کرنے چلا گیا حج کے بعد ، اب مجھے بار بار وسوسہ ہوتا ہے کہ تمہاراعمرہ شاید نہیں ہوا کیونکہ ہوسکتا ہے قطرہ نکلا ہو اور پھر خیال آتا ہے کہ حج تمتع تھا تو اگر عمرہ نہیں ہوا تو پھر آگے شاید حج بھی نہیں ہوا ، میری اس معاملے میں رہنمائی فرمادیں اور یہ بھی بتا دے کہ اگر عمرہ نہیں ہوا توکیا حج بھی متاثر ہوا ہوگا اور اگر ایسا ہے تو کیا میں دوبارہ صرف نفلی عمرہ اس کی نیت کر کے ادا کردوں ۔
سائل کو عمرے کے طواف کے دوران اگر پیشاب کے قطرے نکلنے کی وجہ سے وضوء ٹوٹنے کا یقین اور غالب گمان نہیں تھا بلکہ محض قطرے نکلنے کا شک وشبہ تھا ، تو اسکی وجہ سے سائل کے عمرے پر کوئی اثر نہیں پڑا بلکہ وہ درست ادا ہو چکا ہے ، اسی طرح اس کے بعد اگر سائل نے شرائط وارکان کی رعایت رکھتے ہوئے حج کی ادائیگی کی ہو تو اس کی ادائیگی بھی درست ہو چکی ہے ، لہذا سائل کو شکوک وشبہات میں پڑنے کی ضرورت نہیں ۔
کما فی ردالمحتار: (قوله: مجرد الظهور) من إضافة الصفة إلى الموصوف: أي الظهور المجرد عن السيلان، فلو نزل البول إلى قصبة الذكر لا ينقض لعدم ظهوره، بخلاف القلفة فإنه بنزوله إليها ينقض الوضوء، وعدم وجوب غسلها للحرج، لا لأنها في حكم الباطن كما قاله الكمال ط(ج 1 ص 135 مطلب نواقض الوضوء ط سعید ) ۔
وفی الھندیہ: إذا طاف للعمرة محدثا أو جنبا فما دام بمكة يعيد الطواف فإن رجع إلى أهله ولم يعد ففي المحدث تلزمه الشاة وفي الجنب تكفيه الشاة استحسانا هكذا في المحيط.ومن طاف لعمرته وسعى على غير وضوء فما دام بمكة يعيدهما فإذا أعادهما لا شيء عليه فإن رجع إلى أهله قبل أن يعيد فعليه دم لترك الطهارة فيه ولا يؤمر بالعود لوقوع التحلل بأداء الركن وليس عليه في السعي شيء وكذا إذا أعاد الطواف ولم يعد السعي في الصحيح كذا في الهداية.(ج1ص247الباب الثامن فی الجنایات الفصل الخامس فی الطواف السعی ط ماجدیہ )۔