عمرہ کے بعد قینچی سے خود ہی تھوڑے سے بال کاٹے اکثر لوگ وہاں اس طرح بال کاٹ رہے ہوتے ہیں مجھے پتہ نہیں تھا کہ بال زیادہ یا کم کاٹنا واجب ہے واپس آنے پہ معلوم ہوا کہ بال زیادہ کاٹنے تھے ، اس صورت میں دم دینا پڑے گا یا روزے رکھ لوں ؟یا دوبارہ حرم میں جاکر بال کاٹنے ہیں ؟ میں ابھی سعودیہ عربیہ میں مقیم ہوں مکہ سے 900 کلومیٹر دور۔
واضح ہو کہ عمرہ کے احرام سے نکلنے کے لئے پورے سر کے بال منڈوانا سنت اور ایک چوتھائی کے بقدر بال کاٹنا واجب ہے ، بغیر حلق یا قصر کئے محض احرام کی چادریں اتارنے سے شرعاً احرام کھولنا شمار نہ ہوگا ، لہٰذا اگر سائل نے یقین یا غالب گمان کے مطابق پورے سر کے بالوں میں سے ایک چوتھائی کے بقدر بال کاٹ لئے ہوں تو اس کے بعد اس کے لئے احرام سے نکلنا شرعاً درست تھا، تاہم اگر وہ قصر کے لئےمطلوبہ مقدار بال کاٹنے سے قبل ہی حدود ِحرم سے نکل چکا ہو اور یہ سوچ کر کے کہ وہ احرام سے نکل چکا ہے ، اس نے منافی احرام افعال ( خوشبو لگانا یا سلے ہوئے کپڑے پہننا وغیرہ ) کا ارتکاب بھی کرلیا ہو تو ایسی صورت میں اس پر ایک دم کی ادائیگی کرتے ہوئے حدودِ حرم میں حلق یا قصر کا اہتمام کرنا لازم ہوگا ۔
کما فی بدائع الصنائع : أما الأول فالحلق أو التقصير واجب عندنا إذا كان على رأسه شعر لا يتحلل بدونه، (الی قولہ) فدل أن الحلق أو التقصير، واجب، لكن الحلق أفضل؛ لأنه روي أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - «دعا للمحلقين ثلاثا، وللمقصرين مرة واحدة (الی قولہ) وأما مقدار الواجب، فأما الحلق فالأفضل حلق جميع الرأس لقوله عز وجل {محلقين رءوسكم} [الفتح: 27] ، والرأس اسم للجميع. (الی قولہ) ولو حلق بعض الرأس، فإن حلق أقل من الربع لم يجزه، وإن حلق ربع الرأس أجزأه، ويكره . أما الجواز فلأن ربع الرأس يقوم مقام كله في القرب المتعلقة بالرأس كمسح ربع الرأس في باب الوضوء. (الی قولہ) وأما الكراهة فلأن المسنون هو حلق جميع الرأس لما ذكرنا، وترك المسنون مكروه، الخ ( ج۲، ص۱۴۰۔۱۴۱، کتاب الحج ط۔دارالکتب )۔
و فی ردالمحتار : قال في اللباب: واعلم أن المحرم إذا نوى رفض الإحرام فجعل يصنع ما يصنعه الحلال من لبس الثياب والتطيب والحلق والجماع وقتل الصيد فإنه لا يخرج بذلك من الإحرام، وعليه أن يعود كما كان محرما، ويجب دم واحد لجميع ما ارتكب ولو كل المحظورات، وإنما يتعدد الجزاء بتعدد الجنايات إذا لم ينو الرفض، ثم نية الرفض إنما تعتبر ممن زعم أنه خرج منه بهذا القصد لجهله مسألة عدم الخروج، وأما من علم أنه لا يخرج منه بهذا القصد فإنها لا تعتبر منه. اهـ ( ج۲ ، ص۵۵۳ ، کتاب الحج ، ط۔سعید )۔
و فیہ ایضاً : وأما حلق العمرة فلا يتوقت بالزمان إجماعا هداية،الخ (ج۲ ، ص۵۵۴ ، کتاب الحج ، ط۔سعید )۔