کیاتنقیدکرناقرآن وحدیث کی تعلیمات کے مطابق ہے؟ نہی عن المنکر اورتنقیدمیں کچھ فرق ہے یانہیں؟
اردو محاورے میں تنقید کا لفظ نکتہ چینی اور اظہارِ نقص کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے ، یعنی جانچنے ، پرکھنے کے بعد کسی چیز کے عیب دار ثابت ہونے پر اس کے کمزور پہلوؤں کو اجاگر کرنے کا نام تنقید ہے ، تاہم اگر کسی صاحب علم اور ذی رائے شخص کی جانب سے فتنہ و فساد یا امت کے اجتماعی نظریات و عقائد اور مسلمہ و برگزیدہ شخصیات جیسے انبیاء کرام و صحابہ کرام وغیرہ کو متنازع بنانے کے بجائے کسی شخصیت کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان سے علمی دلائل کی روشنی میں اختلاف رائے رکھنے اور ان کی رائے کے کمزور پہلو کو بغرض اصلاح اجاگر کر کے اس کی نشاندہی کی جائے تو یہ قابل تحسین ہے ، لیکن محض اپنی بڑائی کے اظہار یا امت مسلمہ کے اجتماعی عقائد و نظریات یا دیگر شرعی امور میں بلا وجہ نکتہ چینی کرنا غیر شرعی طرز عمل ہے جس سے اجتناب لازم ہے ، جبکہ نہی عن المنکر کا مطلب ہے کہ کسی شخص کو غیر شرعی امور سے باز رکھنے کی کوشش کی جائے اور یہ شرعاً مطلوب بھی ہے ، قرآن و سنت میں اس کی فضیلت بھی وارد ہوئی ہے ، لہذا ہر مسلمان شخص اپنی وسعت کے مطابق حکمت کے ساتھ اس عمل کو سر انجام دینے کا پابند اور مامور ہے ۔
کما قال اللہ تعالی : اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ الایة ( سورۃ لقمان، آیت 18 ) ۔
وقال اللہ تعالی : كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ- الآیة ( سورۃ آل عمران ، آیت 110 )۔
و فی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی : قوله تعالی وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِؕ ( الی قوله ) فانہ یدل علی ان الأمر بالمعروف و النھی عن المنکر فرض علی الکفایةٍ الخ ( ج 3، ص 253 ، ط : دار عالم الکتب ) ۔
و فی صحیح مسلم : حدثنا شعبة ( الی قوله ) فقال ابو سعید اما ھذا فقد قضی ما علیه ، سمعت رسول اللہ ﷺ ، یقول : "من رأی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ ، فان لم یستطع فبلسانه ، فان لم یستطع فبقلبه ، و ذلک أضعف الإیمان الحدیث ( باب کون النھی عن المنکر من الإیمان ، رقم الحدیث 49 ، ص 92 ، ط : مؤسسة الرسالة )۔