ایک مرد 3 یا 4 سال سعودیہ میں رہا اور اس کی بیوی فلپائن میں تھی، اس دوران کبھی آپس میں ملاقات نہیں ہوئی اور یہ مرد مرگیا، کیا اس کی بیوی پر عدت ضروری ہے یا نہیں ؟
شخص مذکور نے اگر اپنی بیوی کو طلاق یا خلع نہ دی ہو تو صرف الگ رہنے اور ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، دونوں کا نکاح برقرار تھا، لہذا اب جب شخص مذکور کا انتقال ہوگیا تو اس کی بیوی پر عدتِ وفات (چار ماہ دس دن عدت) گزارنا شرعاً لازم ہے۔
قال اللہ سبحانه وتعالیٰ: {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ} [البقرة: 234]
وفی الفتاوى الهندية: عدة الحرة في الوفاة أربعة أشهر وعشرة أيام سواء كانت مدخولا بها أو لا مسلمة أو كتابية تحت مسلم صغيرة أو كبيرة أو آيسة وزوجها حر أو عبد حاضت في هذه المدة أو لم تحض ولم يظهر حبلها كذا في فتح القدير. هذه العدة لا تجب إلا في نكاح صحيح كذا في السراج الوهاج. المعتبر عشر ليال وعشرة أيام عند الجمهور كذا في معراج الدراية اھ (1/ 529)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0