السلام علیکم!مفتی صاحب ہماری یونیورسیٹی میں دس سال سے زیادہ عرصے سے مسجد موجود تھی ،جہاں پچھلے دس سالوں سے باجماعت نماز ہورہی تھی اور یہ مسجد پچھلے وائس چانسلر جناب ۔۔۔۔۔ صاحب کی اجازت سے بنی تھی،موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر۔۔۔۔ کی اہلیہ ۔۔۔۔نے اس مسجد کو ختم کرکے کلاس بنادیا ہے اور وہاں مخلوط محفلیں چل رہی ہیں اور لڈو وغیرہ بھی مخلوط محفل میں کھیلتے ہوئے دیکھا گیا ہے ،وہاں چپلیں پہن کر لوگ جارہے ہیں،برائے کرم اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرمادیں اور وائس چانسلر کے حوالے سے کیا شرعی حکم ہے وہ بھی بتادیں،جزاک اللہ۔
نوٹ:سائل سے رابطہ کرنے کے بعد معلوم ہواکہ مذکور جگہ باقاعدہ مسجد کیلئے وقف نہیں کی گئی تھی بلکہ وہاں عارضی طورپر یونیوسٹی انتظامیہ کی اجازت سے نمازوں کی ادائیگی کاسلسلہ جاری کیاتھا جبکہ وائس چانسلر کی اہلیہ نے وہ ختم کرکے کلاس بنادیاہے۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر مذکور جگہ باقاعدہ مسجد کیلئے وقف نہ کی گئی ہو بلکہ وہا ں عارضی طور پریونیوسٹی انتظامیہ کی اجازت سے نمازوں کی ادائیگی کاسلسلہ جاری تھا تواسے یونیوسٹی کی ضرورت کے پیش نظر کلاس میں تبدیل کرنے میں حرج نہیں ، تاہم مرد وزن کی مخلوط محفلیں (خواہ کہیں پربھی ہوں )قائم کرکے شرعی احکامات کو پامال کرنا ناجائز عمل ہے ، اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے۔
کمافی البحرالرائق: (قوله ومن جعل مسجدا تحته سرداب أو فوقه بيت وجعل بابه إلى الطريق وعزله أو اتخذ وسط داره مسجدا وأذن للناس بالدخول فله بيعه ويورث عنه)اھ (5/271)۔