السلام علیکم ! جناب امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے محترم اگرکوئی شخص صفا و مروہ کی سعی کرنے کے بعد حلق نہ کرے بلکہ اپنے ٹھکانے یعنی ہوٹل پرآکر احرام کھول دے ،یا تین گھنٹے سونے کے بعد بیوی سے جماع کرے اور بعد میں جا کرحلق کےتو کیا اس صورت میں دم ہو گا یا نہیں ہوگا ؟
واضح ہو کہ حلق یا قصر من جملہ واجبات ِعمرہ میں سے ہیں، لہذا اگر کوئی شخص عمرہ کے بعد حلق یا قصر سے پہلے اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کرلے تو اسکی وجہ سے اس پر دم(بکرا ،بکری یا دنبہ ) لازم ہوگا، جسکی ادائیگی حدودِ حرم میں لازم ہے۔
کما فی الدر : (أو حلق فی حل بحج) فی أيام النحر، فلو بعدها فدمان (أو عمرة) لاختصاص الحلق بالحرم اھ
وفی الرد تحت : (قوله أو حلق فی حل بحج أو عمرة) أي يجب دم لو حلق للحج أو العمرة فی الحل لتوقته بالمكان، وهذا عندهما خلافا للثاني (قوله فی أيام النحر) (الی قوله )(قوله لاختصاص الحلق) أي لهما بالحرم وللحج فی أيام النحر اھ (2/554)۔
(قوله فإن قبل أو لمس بشهوة فعليه دم) قال الخجندي سواء أنزل أو لم ينزل وفی قاضي خان اشتراط الإنزال لوجوب الدم باللمس قال وهو الصحيح وإن نظر إلى فرج امرأة بشهوة فأمنى لا شيء عليه كما لو تفكر فأمنى وكذا الاحتلام، والرجل والمرأة فی ذلك سواء لأن الاستمتاع يحصل لها اھ (1/170)۔