گناہ و ناجائز

والدین کی مرضی کے خلاف شادی کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
67407
| تاریخ :
2023-09-02
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

والدین کی مرضی کے خلاف شادی کرنے کا حکم

نانی صاحبہ کی وصیت پر اگر والدہ کسی لڑکی کے ساتھ شادی کا کہے، جس لڑکی سے شادی کی مرضی نہ ہو ،تو کیا کریں؟ ساتھ والدین کی مرضی پر شادی نہ کرے، تو گنہگار ہوں گے کہ نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگرچہ ہرعاقل بالغ فرد اپنے نکاح کے معاملہ میں شرعا خود مختارہوتاہے، اوروالدین کے لیے اس کی اجازت اور رضامندی کے بغیر اس کا نکاح کرانا، یا اس کی مرضی کے بغیر اسے کسی جگہ رشتہ کرنے پر مجبور کرنا مناسب نہیں، لیکن والدین کا تجربہ اور شفقت چونکہ اولاد کے مقابلہ میں زیادہ ہوتی ہے، اس لیے نکاح کے سلسلہ میں ان کے توقعات کو بالکلیہ نظراندازکرکے،محض اپنی مرضی پر اصرار کرنا بھی درست نہیں، بلکہ بسا اوقات اپنی مرضی اورپسند سے کیا ہوا نکاح والدین کی ناراضگی، اور دعاوں سے خالی ہونے کی وجہ سے پائیدار نہیں ہوتا ، اس لیے اس سلسلہ میں والدین کی جذبات کا خیال رکھتے ہوئے، مناسب انداز میں ان کے سامنے اپنی پسند کا بھی اظہار کرنا چاہیئے، اور انہیں مناسب انداز میں قائل کرکے ، ان کی مرضی حاصل کرنی چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی سنن ابی داؤد: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا، وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا اھ (کتاب النکاح، باب الاستئمار)
وفی التنویر مع الدروالرد: کتاب النکاح،(155/3)مکتبه رشیدیه
(ولا تجبر البالغة البکر علی النکاح )لانقطاع الولایة بالبلوغ الخ
وفی الشامیة تحت قوله: ( ولا تجبر البالغة) ولا الحر البالغ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان زوجها بغیر استئمار فقد اخطاء السنة وتوقف علی رضاها الخ

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67407کی تصدیق کریں
0     1233
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات