نانی صاحبہ کی وصیت پر اگر والدہ کسی لڑکی کے ساتھ شادی کا کہے، جس لڑکی سے شادی کی مرضی نہ ہو ،تو کیا کریں؟ ساتھ والدین کی مرضی پر شادی نہ کرے، تو گنہگار ہوں گے کہ نہیں ؟
اگرچہ ہرعاقل بالغ فرد اپنے نکاح کے معاملہ میں شرعا خود مختارہوتاہے، اوروالدین کے لیے اس کی اجازت اور رضامندی کے بغیر اس کا نکاح کرانا، یا اس کی مرضی کے بغیر اسے کسی جگہ رشتہ کرنے پر مجبور کرنا مناسب نہیں، لیکن والدین کا تجربہ اور شفقت چونکہ اولاد کے مقابلہ میں زیادہ ہوتی ہے، اس لیے نکاح کے سلسلہ میں ان کے توقعات کو بالکلیہ نظراندازکرکے،محض اپنی مرضی پر اصرار کرنا بھی درست نہیں، بلکہ بسا اوقات اپنی مرضی اورپسند سے کیا ہوا نکاح والدین کی ناراضگی، اور دعاوں سے خالی ہونے کی وجہ سے پائیدار نہیں ہوتا ، اس لیے اس سلسلہ میں والدین کی جذبات کا خیال رکھتے ہوئے، مناسب انداز میں ان کے سامنے اپنی پسند کا بھی اظہار کرنا چاہیئے، اور انہیں مناسب انداز میں قائل کرکے ، ان کی مرضی حاصل کرنی چاہیئے۔
کمافی سنن ابی داؤد: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا، وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا اھ (کتاب النکاح، باب الاستئمار)
وفی التنویر مع الدروالرد: کتاب النکاح،(155/3)مکتبه رشیدیه
(ولا تجبر البالغة البکر علی النکاح )لانقطاع الولایة بالبلوغ الخ
وفی الشامیة تحت قوله: ( ولا تجبر البالغة) ولا الحر البالغ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان زوجها بغیر استئمار فقد اخطاء السنة وتوقف علی رضاها الخ