ترجمہ: شوہر کی رضامندی سے عدالت نے دو ہفتے قبل مجھے خلع دی ،میں سرکاری ملازم ہوں اور چونکہ میں چھٹی پر ہوں اوردفتر نہیں جارہی ہوں ،براہِ کرم مجھے عدت کی مدت بتائیں اور اگر دفتر والے دورانِ عدت چھٹی نہ دے تو اسلامی احکامات کیا ہیں؟
واضح ہو کہ جس طرح طلاق کے بعد عدت لازم ہوتی ہے اسی طرح خلع کے بعد بھی عدت لازم ہے ،چنانچہ اگر شوہر کی رضامندی سے سائلہ کو عدالت نے خلع دی ہو اور سائلہ حمل سے نہ ہو تو سائلہ کی عدت تین ماہواریاں ہونگی ،چنانچہ تیسری ماہواری سے پاک ہونے کے بعد سائلہ کے لئے کسی دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہوگا، جبکہ سائلہ کو عدت کے دوران گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے،لہذا اگر سائلہ اپنی ملازمت سے رخصت لیکر عدت کے ایام گھر میں گزار سکتی ہے تو دورانِ عدت ملازمت کے لئے جانا جائز نہیں ہوگا ،تاہم اگر سائلہ کے خرچ کا کوئی انتظام نہ ہو اور ملازمت سے رخصت بھی نہ ملے تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائلہ دن کے اوقات ملازمت کے لئے جاسکتی ہے البتہ رات ہونے سے پہلے پہلے واپس اپنے گھر پہنچنا ضروری ہوگا۔
کما فی سنن ابی داؤد:حدثنا أحمد بن حنبل،حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج، قال: أخبرني أبو الزبير عن جابرقال: طلقت خالتي ثلاثا، فخرجت تجد نخلا لها،فلقيها رجل، فنھاها، فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له، فقال لھا: «اخرجي فجدي نخلك لعلك أن تصدقي أو تفعلي خيراً(رقم الحدیث:2297)
وفی الدالمختار:(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه إلا أن تخرج أو يتھدم المنزل، أو تخاف انھدامه، أو تلف مالھا، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج الأقرب موضع إليه(3/536)
وفی البحر الرائق: (ولا تخرج معتدۃ الطلاق، ومعتدة الموت تخرج يوماً وبعض الليل )قوله: ومعتدة الموت تخرج يوماً وبعض الليل ) لتكتسب لأجل قيام المعيشة : لأنه لا حتى لو كان عندها كفايتھا صارت كمطلقة فلا يحل لھا أن تخرج لزيارة ولا لغيرها ليلاً ولا نھاراً، والحاصل أن مدار الحل كون خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره فمتى انقضت حاجتھا لا يحل لھا بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتھا كذا في فتح القدير۔(3/536)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0