ایک شخص حجِ تمتع کے ارادہ سے اشہرِحج میں عمرہ کرنے اور حلق کے بعد حدود ِمیقات سے باہر جاسکتا ہے؟ ایّامِ حج میں وہ سیدھا منیٰ میں پہنچنے کا ارادہ بھی رکھتا ہے، اور قدرت بھی رکھتا ہے ؟ کیا بامرِ مجبوری یہ کیا جاسکتا ہے ، اور کوئی بھی صورت ممکن نہیں امید ہے وضاحت سے جواب مرحمت فرمائیں گے ۔
واضح ہو کہ متمتع شخص اگر افعالِ عمرہ (طواف، سعی اور حلق یا قصر) کی ادائیگی سے فارغ ہو جائے تو اس پر احرام کی تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں، چنانچہ اس کے بعد کسی عذر کی وجہ سے اس کے لیے میقات سے باہر نکلنے میں تو کوئی حرج اور مضائقہ نہیں ، اور اگر وہ اپنے وطن کے علاوہ کسی دوسری جگہ کا سفر کرے اور پھر واپسی پر میقات سے حج کا احرام باندھ کر حج کی ادائیگی کرے تو ایسا کرنے سے اس کا " حجِ تمتع " بھی درست ادا ہو گا۔
کما فی الموطأ لامام مالک : عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ؛ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: مَنِ اعْتَمَرَ فی أَشْهُرِ الْحَجِّ فی شَوَّالٍ، أَوْ ذِي الْقِعْدَةِ ، أَوْ ذِي الْحِجَّةِ، قَبْلَ الْحَجِّ. ثُمَّ أَقَامَ بِمَكَّةَ حَتَّى يُدْرِكَهُ الْحَجُّ، فَهُوَ مُتَمَتِّعٌ، إِنْ حَجَّ. وَعَلَيْهِ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ. فَإِنْ لَمْ يَجِدْ ، فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فی الْحَجِّ، وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ اھ 3/499)۔
و فی الدر : باب التمتع (هو) لغة من المتاع والمتعة وشرعا (أن يفعل العمرة أو أكثر أشواطها فی أشهر الحج) اھ (2/535)۔
و فیه أیضاً : (حل من عمرته فیها) أي الأشهر (وسكن بمكة) أي داخل المواقيت (أو بصرة) أي غير بلده (وحج) من عامه (متمتع) لبقاء سفره(ولو أفسدها ورجع من البصرة) إلى مكة (وقضاها وحج لا) يكون متمتعا اھ (2/542)۔
و فی بدائع الصنائع : فأما إذا عاد إلى غير أهله بأن خرج من الميقات ولحق بموضع لأهله القران والتمتع كالبصرة مثلا أو نحوها، واتخذ هناك دارا أو لم يتخذ، توطن بها أو لم يتوطن ثم عاد إلى مكة، وحج من عامه ذلك، فهل يكون متمتعا؟ ذكر فی الجامع الصغير أنه يكون متمتعا، ولم يذكر الخلاف، وذكر القاضي أیضاً أنه يكون متمتعا فی قولهم وذكر الطحاوي أنه يكون متمتعا فی قول أبي حنيفة، وهذا وما إذا أقام بمكة ولم يبرح منها سواء اھ (2/171)۔