گنبد خضریٰ کس کا گنبد ہے ؟ مسجد نبوی کا ؟ یا جہاں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم آرام فرما ہیں یعنی مدفون ہیں وہاں کا گنبد ہے ؟
گنبد خضری حضورنبی کریم ﷺ کے حجرہ مطہرہ پر بنایا گیا ایک خوشنما اور جاذب نظر گنبد ہے ،اوراس حجرہ طیبہ کے اندر آپ ﷺ کی آخری آرام گاہ بھی ہے ، لہذا گنبد خضری حجرہ شریفہ ہی کا گنبد ہے، چونکہ حجرہ مقدسہ مسجد نبوی کے اندر ہی واقع ہے، لہذا اس کو مسجد نبوی کا گنبد بھی کہا جاتا ہے اور اسکے کہنے میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے۔
كما في سنن ابن ماجه: لقد اختلف المُسْلِمُونَ في المكان الَّذِي يُحْفَرُ لَهُ، فَقَالَ قَائلُونَ: يُدْفَنَّ فِي مَسْجِدِهِ وَقَالَ قَائِلُونَ: يُدفنُ مَعَ أَصْحَابه فقال أبو بكر: إنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "مَا قُبِضَ نَبِيٌّ إِلَّا دُفِنَ حَيْثُ يُقْبَضُ اھ(2/ 550)
وفي السنن الكبرى للنسائي: قَالُوا: يَا صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَلْ يُدْفَنُ النَّبِيُّ صصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالُوا: وَأَيْنَ يُدْفَنُ؟ قَالَ: فِي الْمَكَانِ الَّتِي قَبَضَ اللَّهُ فِيهَا رُوحَهُ فَإِنَّهُ لَمْ يَقْبض روحه إلا في مكان طيبة (الحديث). اهـ (6/ 396)
و في الشمائل المحمدية للترمذي: عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : لما قبض رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِي دَفْنِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مَا نسيته قَالَ: «مَا قَبَضَ الله نَبِيًّا إلا في الموضع الذي يُحِبُّ أَنْ يُدْفَنَ فِيهِ» . ادْفِنُوهُ فِي مَوْضِعِ فراشه اھ (ص: 331)
وفي خلاصة وفاء الوفاء :واما قبة الحجرة الشريفة المحاذية لها باعلى سطح المسجد تكييزا لها قبل حريق المسجد الاول ولا بعده الى دولة المنصور قلدون الصالحي بل كان قديما حول ما يوازى الحجرة في سطح المسجد حظير من أجر مقدار نصف قامة تمييزالها عن بقية سطح المسجد (الخ) هناك قبة مربعة من اسفلها مثمنة من أعلاها اخشاب اقيمت على رؤوس السواري المحيطة بالحجرة الشريفة اھ(1/148) واللہ اعلم بالصواب