متفرقات شعائر اسلام

گنبد خضری ،مسجد نبوی کا گنبد ہے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مدفن کا؟؟

فتوی نمبر :
59523
| تاریخ :
2022-10-12
آداب / شعائر اسلام / متفرقات شعائر اسلام

گنبد خضری ،مسجد نبوی کا گنبد ہے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مدفن کا؟؟

گنبد خضریٰ کس کا گنبد ہے ؟ مسجد نبوی کا ؟ یا جہاں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم آرام فرما ہیں یعنی مدفون ہیں وہاں کا گنبد ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

گنبد خضری حضورنبی کریم ﷺ کے حجرہ مطہرہ پر بنایا گیا ایک خوشنما اور جاذب نظر گنبد ہے ،اوراس حجرہ طیبہ کے اندر آپ ﷺ کی آخری آرام گاہ بھی ہے ، لہذا گنبد خضری حجرہ شریفہ ہی کا گنبد ہے، چونکہ حجرہ مقدسہ مسجد نبوی کے اندر ہی واقع ہے، لہذا اس کو مسجد نبوی کا گنبد بھی کہا جاتا ہے اور اسکے کہنے میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في سنن ابن ماجه: لقد اختلف المُسْلِمُونَ في المكان الَّذِي يُحْفَرُ لَهُ، فَقَالَ قَائلُونَ: يُدْفَنَّ فِي مَسْجِدِهِ وَقَالَ قَائِلُونَ: يُدفنُ مَعَ أَصْحَابه فقال أبو بكر: إنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "مَا قُبِضَ نَبِيٌّ إِلَّا دُفِنَ حَيْثُ يُقْبَضُ اھ(2/ 550)
وفي السنن الكبرى للنسائي: قَالُوا: يَا صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَلْ يُدْفَنُ النَّبِيُّ صصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالُوا: وَأَيْنَ يُدْفَنُ؟ قَالَ: فِي الْمَكَانِ الَّتِي قَبَضَ اللَّهُ فِيهَا رُوحَهُ فَإِنَّهُ لَمْ يَقْبض روحه إلا في مكان طيبة (الحديث). اهـ (6/ 396)
و في الشمائل المحمدية للترمذي: عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : لما قبض رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِي دَفْنِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مَا نسيته قَالَ: «مَا قَبَضَ الله نَبِيًّا إلا في الموضع الذي يُحِبُّ أَنْ يُدْفَنَ فِيهِ» . ادْفِنُوهُ فِي مَوْضِعِ فراشه اھ (ص: 331)
وفي خلاصة وفاء الوفاء :واما قبة الحجرة الشريفة المحاذية لها باعلى سطح المسجد تكييزا لها قبل حريق المسجد الاول ولا بعده الى دولة المنصور قلدون الصالحي بل كان قديما حول ما يوازى الحجرة في سطح المسجد حظير من أجر مقدار نصف قامة تمييزالها عن بقية سطح المسجد (الخ) هناك قبة مربعة من اسفلها مثمنة من أعلاها اخشاب اقيمت على رؤوس السواري المحيطة بالحجرة الشريفة اھ(1/148) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کریم غلام خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 59523کی تصدیق کریں
0     1289
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مسجد کے حصہ کو وضو خانہ کے طور پر استعمال کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   متفرقات شعائر اسلام 0
  • اللہ میاں کہنا کیسا ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   متفرقات شعائر اسلام 0
  • عام گزرگاہ کی تنگی کی وجہ سے مسجد کا کچھ حصہ اس میں شامل کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   متفرقات شعائر اسلام 0
  • ’’ہم تو مسلمان نہیں‘‘ کہنے اور شعائرِ اسلام کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال کرنا

    یونیکوڈ   متفرقات شعائر اسلام 0
  • داڑھی کی حدود اور اس میں خط بنوانا

    یونیکوڈ   متفرقات شعائر اسلام 1
  • انگریزی لکھے ہوئےاسلامی ناموں کے تقدس کا حکم

    یونیکوڈ   متفرقات شعائر اسلام 0
  • قبلہ کی طرف پاؤں کرکے بیٹھنا

    یونیکوڈ   متفرقات شعائر اسلام 0
  • نومسلم کو بڑی عمر میں ختنہ کرانا- متفرق مسائل

    یونیکوڈ   متفرقات شعائر اسلام 0
  • زیر تعمیر مسجدکی دیوار پر کپڑے دھوکر لٹکانے کا حکم

    یونیکوڈ   متفرقات شعائر اسلام 0
  • اخبار سے قرآنی آیات کو نکال کر باقی حصہ پھینکنے کا حکم

    یونیکوڈ   متفرقات شعائر اسلام 0
  • کتب سماویہ بھی کلام اللہ ہیں

    یونیکوڈ   متفرقات شعائر اسلام 0
  • دین ابراھیمی اور دین اسلام میں کیا فرق ہے ؟

    یونیکوڈ   متفرقات شعائر اسلام 0
  • گنبد خضری ،مسجد نبوی کا گنبد ہے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مدفن کا؟؟

    یونیکوڈ   متفرقات شعائر اسلام 0
  • مسجد کے منبر کو منبر رسول بولنا

    یونیکوڈ   متفرقات شعائر اسلام 0
Related Topics متعلقه موضوعات