شوہر کا انتقال پچیس روزے دوپہر 2بجے ہوا،عدت اب ختم ہوگئی ،لاعلمی کی وجہ سے عدت عشاء سے جنازہ اٹھنے سے شروع کی تھی۔
واضح ہوکہ شوہر کے انتقال کے ساتھ ہی بیوہ کی عدت شروع ہوجاتی ہے،چنانچہ سائلہ کا یہ کہنا کہ عدت کی ابتداء جنازہ اٹھنے سے شروع کی تھی درست نہیں،تاہم اگر شوہر کی وفات کے بعد سے جنازہ اٹھنے تک ممنوعات عدت میں سے کوئی عمل کیا ہو تو اس پر بصدق دل توبہ و استغفار لازم ہے،جبکہ بیوہ عورت اگر حاملہ نہ ہو تو اس کی عدت شوہر کی وفات کے بعد سے چار مہینہ دس دن ہوتی ہے،لہذا اگر سائلہ حمل سے نہ ہو اور شوہر کی وفات سے لے کر اب تک چار مہینہ دس دن یعنی ایک سو تیس دن گزر گئے ہوں تو سائلہ کی عدت ختم ہوچکی ہے۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0