ہمارا آنلائن سیوا (خدمت) کا کاروبار ہے، جس میں کبھی لوگ ہم سے بجلی یا پانی کا بل جمع کراتے ہیں، اور ہم فون پر یا پے ٹی ایم کے ذریعہ بل ادا کرتے ہیں، تو کمپنی کی طرف سے پے ٹی ایم یوزر کو کبھی پانچ ہزار یا دس روپے کا کیش بیک مل جاتا ہے، تو کیا یہ کیش ہمارا مانا جائے گا یا اس شخص مانا جائے گا جس نے بل جمع کرایا ہے، اس بارے میں وضاحت فرمادیں؟
پے ٹی ایم کے ذریعہ بل جمع کرانے پر کیش بیک کی صورت میں جو رقم دی جاتی ہے، اگر وہ اکاؤنٹ میں کسی متعین مقدار رقم رکھنے کے ساتھ مشروط نہ ہو بلکہ محض انعام کے طور پر دی جاتی ہو، تو اس کا لینا شرعاً جائز ہے، اور یہ سائل کی ملکیت شمار ہوگی۔
کما فی البحر الرائق: ھی لغۃ التفضل علی الغیر بما ینفعہ ولو غیر مال واصطلاحا ما اشار الیہ المصنفؒ (قولہ: ھی تملیک العین بلا عوض (ج7 صـ284)۔
وفی الدر المختار: وحاشیۃ ابن عابدین (رد المحتار): اعلم ان اسباب الملک ثلاثۃ: نقلا کبیع وھبۃ وخلافۃ کارث واصالۃ، وھو الاستیلاء حقیقۃ بوضع الید او حکما بالتھیئۃ کنصب الصید الخ (ج6 صـ463)۔