السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
زید اور بکر کے درمیان کچھ اختلافات تھے، اس دوران عامر (ایک تیسرے شخص) نے بکر اور اس کے بزرگوں کے خلاف کچھ الزامات اور ناشائستہ زبان کا استعمال سرعام کیا ، جہاں بکر کے خاندان کے کچھ لوگ بھی موجود تھے، اور ان میں سے بکر کے بھائی بیٹے نے عامر کی باتوں کو ریکارڈ کر دیا کیوں کہ وہ عامر کی اور موجود لوگوں کی فطرت سے بخوبی واقف تھے، تو کیا بکر کے خاندان والوں نے جو ریکارڈنگ اس غرض سے کی کہ عامر سے ان الزامات کی حقیقت معلوم کی جائے اور اپنی برأت پیش کی جاسکے ، اس تناظر میں از روئے شریعت بکر کے خاندان والوں کا یہ فعل کیسا ہے؟
زید اور بکر کے درمیان اختلافات کے دوران ایک تیسرے شخص (مسمی عامر) کا بکر اور اس کے خاندان والے کے متعلق برسر عام بے بنیاد الزامات لگانا اور ناشائستہ زبان استعمال کرنا درست نہ تھا، جس کی وجہ سے اگر بکر اور اس کے خاندان والوں کی دل آزاری اوربے عزتی ہوئی ہو، تو عامر کو ان سے معافی تلافی کر کے معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے، جبکہ بکر کے بھائی کا ان الزامات اور ناشائستہ باتوں کو ریکارڈ کرنے کا مقصد اگر فقط اپنے متعلق الزامات لگانے والے سے اس کی صفائی اور براءت ہو، اس کے علاوہ اس کا اور کوئی غرض فاسد نہ ہو، تو شرعاً اس کی گنجائش ہے۔
قال اللہ تعالی: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (سورۃ الحجرات ایة 10)۔
وفی تفسیر القرطبی: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:] إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا [لَفْظُ الْبُخَارِيِّ. قَالَ عُلَمَاؤُنَا: فَالظَّنُّ هُنَا وَفِي الْآيَةِ هُوَ التُّهْمَةُ. وَمَحَلُّ التَّحْذِيرِ وَالنَّهْيِ إِنَّمَا هُوَ تُهْمَةٌ لَا سَبَبَ لَهَا يُوجِبُهَا، كَمَنْ يُتَّهَمُ بِالْفَاحِشَةِ أَوْ بِشُرْبِ الْخَمْرِ مَثَلًا وَلَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهِ مَا يَقْتَضِي ذَلِكَ. وَدَلِيلُ كَوْنِ الظَّنِّ هُنَا بمعنى التهمة قول تَعَالَى:" وَلا تَجَسَّسُوا" وَذَلِكَ أَنَّهُ قَدْ يَقَعُ لَهُ خَاطِرُ التُّهْمَةِ ابْتِدَاءً وَيُرِيدُ أَنْ يَتَجَسَّسَ خبر ذلك ويبحث عنه، ويتبصر ويستمع لتحقق مَا وَقَعَ لَهُ مِنْ تِلْكَ التُّهْمَةِ. فَنَهَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ. وَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ: وَالَّذِي يُمَيِّزُ الظُّنُونَ الَّتِي يَجِبُ اجْتِنَابُهَا عَمَّا سِوَاهَا، أَنَّ كُلَّ مَا لَمْ تُعْرَفْ لَهُ أَمَارَةٌ صَحِيحَةٌ وَسَبَبٌ ظَاهِرٌ كان حراما واجب الاجتناب. الخ (16/331)۔