کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام مسئلہ ذیل میں کہ میں ایک ایسے مدرسے میں مدرس ہوں ، جس میں شورائی نظام ہے,اکثر امور شوری ہی طے کرتا ہے ، حل طلب امر یہ ہے کہ مدرسے میں وقتا فوقتاً کھانے پینے کی دعوت ہوتے ہیں، جو کہ جامعہ کے مہتم ، اساتذہ، یا شوری میں کسی ایک جانب سے ہوتے ہیں، چنانچہ یہ دعوت خاص ہوتے ہیں، مدرسے کے عملہ ، اساتذہ، و شوری کے لئے ، بسا اوقات دعوت کرنے والا گوشت یا زنده بکری، چاول وغيره دے جاتا ہے جس میں دیگر اخراجات مثلاً مرچ ، مصالحہ ، نمک ، آٹا، برتن وغیرہ جامعہ کے استعمال ہوتے ہیں اور کبھی کبھار دعوت کرنے والا اپنے کسی اور دوست احباب کو بھی اس دعوت کے موقع پر مدرسے میں بلا لیتا ہے ، جو کہ جامعہ کے عملہ ، و شوری کے سوا ہوتے ہیں ۔ کیا اس طرح مدرسے کے اندر دعوت کرنا صحیح ہے ؟ کیا ایسے دعوت کا کھانا درست ہے ؟ نیز اس کے جواز کی کیا صورتیں ہیں ؟ واضح ہو کہ یہ تمام امور جامعہ کے مہتمم ، ناظم خوراک ، شوری و دیگر عملہ کے رضا مندی و محبت سے ہوتے ہیں -
اگر چندہ دہندگان کی طرف سے صراحۃً یا عرفاً اجازت ہو کہ اہلِ مدرسہ کے مہمان بھی اس میں سے استعمال کر سکتے ہیں ، اور مدرسہ کا ضابطہ بھی اس کی اجازت دیتا ہو، تو مدرسہ میں اگر کبھی اس طرح کی نجی دعوت ہو ، اور اس میں شرکت کر لی جائے ، اور ساتھ میں ایک دودوست باہر سے بھی شامل ہو جائیں،تو اس کی شرعاً گنجائش ہے۔
کما في الدر المختار: شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة اھ (4/ 433)-
و في قانون العدل والانصاف: شرائط الواقف معتبرة اذا لم تخالف الشرع اھ (ص: ۳۴)-
و في الإسعاف فى أحكام الأوقاف: ويتحرى في تصرفاته النظر للوقف والغبطة لأن الولاية مقيدة به اھ (ص: 56)-