کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: کیا احناف کے نزدیک سمندری کچھوا کھانا جائز ہے؟کیا ہم مرحوم جنرل قاسم سلیمان کیلئے دعا کرسکتے ہیں؟جبکہ وہ شیعہ تھا،اگر شیطان کو جنت سے نکالا گیا تھا،تو وہ دوبارہ کیسے اندر آکر آدم۔علیہ السلام۔ کے دل میں پھل کھانے کا وسوسہ ڈال سکا؟
(1)احناف کے نزدیک سمندری کچھوا کھانا جائز نہیں۔
(2)جنرل قاسم سلیمان کے عقائد ونظریات کا سائل نے ذکر نہیں کیا،تاہم اگر وہ فرقہ اثنا عشریہ سے تعلق نہ رکھتا تھااور اسی طرح کوئی صریح کفریہ عقیدہ جیسے حضرت علی۔رضی اللہ عنہ۔ کی الوہیت کا قائل نہ تھایاحضرت عائشہ۔رضی اللہ عنھا۔پر تہمت کی تصدیق نہ کرتا تھاوغیرہ،تو ایسی صورت میں جنرل صاحب کے لئے دعاءِمغفرت کرنا بلاشبہ جائز ہے۔
(3)شیطان کا حضرت آدم۔علیہ السلام۔کو بہکانے اور وہاں تک پہنچنے کی بہت سی صورتیں مفسرین نے بیان کی ہیں،جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
الف):شیطان نے حضرت آدم۔علیہ السلام۔سے ملاقات کیے بغیر ہی ان کے دل میں وسوسہ ڈالا۔
ب):چونکہ شیطان جنات میں سے ہےاور اللہ تعالیٰ نے جنات کو بہت سے ایسے تصرفات پر قدرت دی ہے،جو عام طور پر انسان نہیں کرسکتے،انہیں تصرفات میں سے ایک مختلف شکلوں میں انہیں متشکل ہونے کی قدرت بھی ہے،اسی قدرت کو بروئے کار لاتے ہوئے،شیطان سانپ وغیرہ کی شکل میں متشکل ہوکر جنت میں داخل ہوا اورحضرت آدم۔علیہ السلام۔کو بہکاسکا۔(ملاحظہ ہوتفسیرمعارف القرآن ازمفتی شفیع۔رحمہ اللہ۔(ج1/صفحہ193)
کما فی اللباب فی شرح الکتاب: ولاتؤکل من حیوان الماء الا السمك ویکرہ اکل الطافی منه ولاباس باکل الجریث والمارماھی اھ(3/231)۔
کما فی الجامع لاحکام القرآن: الخامسة:قوله تعالیٰ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ(التوبة:113الآیة) وھذہ نزلت بمکة عند موت ابی طالب،علی مایاتی بیانه وھذا یفھم منه النھی عن الاستغفار لمن مات کافرا اھ(4/220)۔