ایک اللہ والے صاحب نے ہمارے گاؤں میں ایک مدرسہ تعمیر کروایا،اور جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ یہ مدرسہ میں مسجد کے نام وقف کرتا ہوں اور جو مسجد کی کمیٹی اور مسجد کا امام ہوگا،وہ اس مدرسہ کے انتظام کو سنبھالیں گے،میرے وارثین کا اس پر کوئی حق نہیں ہے،اس کے کچھ عرصہ بعد اس صاحب نے امامِ مسجد کو کہا کہ مدرسہ مسجد کو وقف کرنے کی کاغذی کاروائی بھی پوری کی جائے،لیکن امامِ مسجد نے اپنے نام وقف کرنے کی درخواست کی اور فیصلہ پر نظرِ ثانی کا کہا،لیکن اس نے انکار کر دیا کہ میں مصمم فیصلہ کرچکا ہوں،یہ مسجد کو ہی وقف ہے،اس کے چند روز بعد وہ صاحب وفات پاگئے اور امامِ مسجد نے ان کی اہلیہ کے ذریعے مسجد کی بات مکمل ختم کرواکر ان کی بیوہ کو سرپرست اور خود کو منتظم لکھوا کر وقف نامہ تیار کروالیا،کیا یہ درست ہے؟جب کہ وہ مسجد میں اعلان بھی کرچکے تھے کہ مدرسہ مسجد کے نام وقف کردیا ہے،بس کتابت نہ ہوئی تھی۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست ہو تو امام اگرچہ انتظامی کمیٹی کا حصہ ہے اور اس کا تحریر میں اپنے آپ کو منتظم لکھوانا بھی جائز ہے، مگر واقف کی صراحت کے خلاف مدرسہ کو مسجد کے نام وقف کرنے کی بات کو ختم کروانا شرعاً درست نہیں اور اس سےاحتراز لازم ہے ۔
کمافی رد المحتار: شرط الواقف کنص الشارع اھ(4/433)۔
وفی قانون العدل والانصاف: شرائط الواقف معتبرة اذا لم تخالف الشرع اھ (34)۔