السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !محترم و مکرم مفتی صاحب !ایک نو مسلم خاتون ہیں جن کی عمر پچاس سال سے زیادہ ہے ، ان کا کوئی محرم موجود نہیں ہے ، وہ عمرے کی نیت سے سعودی عرب کے سفر کا ارادہ رکھتی ہے ،کیا ان کے لیے یہ جائز ہوگا ؟ نیزاگر بغیر محرم کے سفر کرنا جائز نہ ہو تو کیا صورت ہو سکتی ہے جس ذریعےسےمذکور خاتون زیارت ِبیت اللہ سے شرف یاب ہو سکے؟
واضح ہو کہ عورت بغیر محرم کے حج یا عمرہ کے سفر پر نہیں جا سکتی، لیکن اگر چلی جائے تو حج و عمرہ ادا ہو جائے گا ،مگر بغیر محرم سفر کرنے کا گناہ ہوگا، اس لیے مذکور خاتون کو بھی محرم کا انتظام ہونے تک انتظار کرنا چاہیئے ۔
کما فی صحیح المسلم : عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ، تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، تُسَافِرُ مَسِيرَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ» اھ (2/975)۔
و فی البحر الرائق : وهي يشترط فی حج المرأة من سفر زوج أو محرم بالغ عاقل غير مجوسي ولا فاسق مع النفقة عليه وأطلق المرأة فشمل الشابة والعجوز لإطلاق النصوص والمرأة هي البالغة اھ (2/339)۔