میں بینک سے قرض لیکر ان پیسوں سے عمرہ کرنا چاہتا ہوں، ان پیسوں سے مجھے سود بھی ادا کرنا ہو گا، کیا ایسے پیسے سے عمرہ کرنا جائز ہے؟
بینک سے سودی قرض لیکر عمرہ پر جانا جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر سائل سودی قرض لیکر عمرہ کرے تو عمرہ ادا ہو جائے گا، مگر سودی قرض لینے کا گناہ اس کے ذمہ لازم ہوگا۔
کما فی مشکوٰۃ المصابیح : عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَعَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ الرِّبَا وَمُوَكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ» . رَوَاهُ مُسلم اھ (2/855)۔
و فی الرد تحت : (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفی الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا فی القرض اھ (5/166)۔