السلام علیکم ! ہمارے پاس معتمرین کے پاسپورٹ شائع ہوتے ہیں ، ان میں موبائل سمیں موجود ہوتی ہیں جو معتمرین کوائرپورٹ پر مفت دی جاتی ہیں ، اس بات کا امکان کم ہی ہوتا ہے کہ وہ سم استعمال کریں گے ، زیادہ ترسميں واپسی پر ضائع ہو جاتی ہیں ، ایسی صورت میں ان سموں کو نکال کر ضرورت مند حاجیوں میں تقسیم کر دینا جائز ہے یا نہیں ؟جن معتمرین پر دم واجب ہو جاتا ہے وہ بکرے کی قیمت یہاں موجود ٹریول ایجنٹس کو دے دیتے ہیں جو بکرا ذبح کر کے یہاں موجود مختلف افراد میں بانٹ دیتے ہیں ، جن کی اکثریت متوسط مالی استطاعت والے تنخواہ داروں پر مشتمل ہوتی ہے ، کیا ایسے افراد کا " دم" والے جانور کا گوشت کھانا جائز ہے ؟
واضح ہو کہ مذکور سمیں بظاہر معمترین کو ملکیتاً دی جاتی ہیں اس لیے مالکان کی اجازت کے بغیر ضرورت مند حاجیوں میں ان کا تقسیم کرنا جائز نہیں ، البتہ کسی طور ان سے اجازت لے لی جائے تو ان کا تقسیم کرنا بلا شبہ درست ہو گا، اگر ان سے اجازت لینا ممکن نہ ہو اور سم میں موجود رقم وقت ختم ہونے سے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو سم کسی بھی دوسرے ضرورت مند حاجی کو دینا جائز اور درست ہوگا ۔
دم کا جانور جو کہ کفارہ کے طور پر حرم میں ذبح کیا جاتا ہے اس کے گوشت کو مستحق زکوۃ افراد میں تقسیم کرنا لازم ہے،مستحقِ زکو ٰۃ وہ شخص کہلاتا ہے جس کی ملکیت میں ضرورت ِاصلیہ کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر سونا، چاندی، نقد رقم یا ضرورت سے زائد کوئی اور چیز موجود نہ ہو۔
کما فی مرقاة المفاتيح تحت : (قوله صلى الله عليه وسلم لا يحل مال امرىء ) اى مسلم او ذمى (الا) بطيب نفس اى بامر او رضا (منه) هـ (٥٣٦/٦) .
وفی احكام القرآن للجصاص تحت: قوله تعالى ( يا أيها الذين آمنوا لا تا كلو اموالكم بينكم بالباطل الا أن تكون تجارة عن تراض منكم ( وكذالك الاكل عند غيره اللهم الا ان يكون المراد عند غيره بغير اذنه فهذا العمري قد تناولته الآيةهـ(۱۷۲/۲)
و فی غنية الناسك: واما ماعدا هذه الثلاثة كدماء الكفارات كلها والنذور وهدى الاحصار و هدى التطوع اذا لم يبلغ الحرم فلا يجوز له الاكل منه ولو فقيرا ولا لمن بينهما ولاد او زوجية ولا لغنى بل لكل من لا يحل له الزكوة هـ (٣٥٦) –