میں ایک ہسپتال میں پرچیز آفیسر کی جوب کرتا ہوں ، آرڈر بناتا ہوں اور اپنے کلائنٹس کو بھیجتا ہو ، مجھے مختلف لوگ گفٹ بھی دیتے ہیں، میں وہ قبول کر لیتا ہوں، کچھ لوگ باہر کھانا کھلا دیتے ہیں یا مجھے کہتے ہیں کہ آپ کھا لینا اور بل ہم سے وصول کرنا ،کچھ عرصہ سے مجھے کلائنٹس پیسے دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ" بس ! بھائی بندی میں آپ کو دے رہے ہے"، میری تنخواہ ۳۵ ہزار ہے اور خرچے زیادہ ہو گئے ، تو کبھی کبھی میں بھی اپنے کلائنٹس سے پیسے مانگ لیتا ہوں اور وہ میری مدد کرتے ہیں بنا کسی فائدہ دیتے ہوئے، میں ان سے مانگتا ہوں، کیا میں یہ پیسہ استعمال کر سکتا ہو ں ، جو وہ مجھے دیتے ہیں ، ہر ماہ ،کبھی کچھ ماہ چھوڑ کر ؟ میں نے یہ پیسے استعمال بھی کیے ہیں اور میرے اکاؤنٹ میں رکھے بھی ہیں ، اگر میں استعمال کر سکتا ہوں تو بتادیں ، اور اگر استعمال نہیں کر سکتا تو بتادیں کہ وہ پیسہ میں کہاں استعمال کروں؟ اور مزید اس کی تفصیل بتا دیں کہ کیا یہ رشوت تو نہیں جو لوگ مجھے یہ پیسے دیتے ہیں، جبکہ میں نے کبھی ان کا ساتھ نہیں دیا اور نہ ہی کبھی کوئی ڈیل کی ہے، جیسے لوگ کرتے ہیں کہ میرے ریٹ پاس کروا دو ، اور آپ کو میں اتنے پیسے دونگا ، میں نے ایک دو مفتی صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ بغیر فائدہ دیے ہوئے آپ استعمال کر سکتے ہو۔
سائل کو جو گفٹ دیے جاتے ہیں یا مختلف لوگوں کی طرف سے اس کے لۓ جو دعوت یا ضیافت کا اہتمام کیا جاتا ہے، اس سے ان لوگوں کی اگر کوئی غرض فاسد نہ ہو اور نہ ہی سائل ہدایا وغیرہ کی وجہ سے ان کی بےجا رعایت کرتا ہو ، بلکہ معمول کے مطابق عام دوستوں کی طرح ان کے درمیان گفٹ و وہدایا کے تبادلے ہوتے رہے ہوں تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ۔
في الدر المختار: ( و ) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) (إلی قوله) (و حكمها ثبوت الملك للموهوب له اھ (5/ 688)۔
في الدر المختار : أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع و هو حرام على الآخذ فقط اھ (5/ 362)۔