میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی کے والدین خواہ ماں ہو یا باپ کوئی ایک عمرہ ادا کرنے کے لیے نہ جاسکے مصروفیت اور ذمہ داری کی وجہ سے جیسے بچوں کی شادی کرنا وغیرہ تو والدین کی طرف سے ان کا بیٹا عمرہ ادا کر سکتا ہے،اگر بیٹے کوبار بار مکہ جانے کا چانس مل رہا ہو ؟
بیٹے کے لیے والدین کی طرف سے نفلی عمرہ کر کے اس کا ثواب والدین کو ایصال کرناجائز اور درست ہے ۔
کما فی الہندیة: الأصل في هذا الباب أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة كان أو صوما أو صدقة أو غيرها كالحج وقراءة القرآن والأذكار وزيارة قبور الأنبياء - عليهم الصلاة والسلام – والشهداء والأولياء والصالحين وتكفين الموتى وجميع أنواع البر، كذا في غاية السروجي شرح الهداية اھ (1/257)۔