میں نے اگر کسی سے چیرٹی کے نام پہ چندہ جمع کیا اور نیت خود رکھنے کی تھی اور چیرٹی میں نہ دینے کی تھی،اب اگر مجھے توبہ کی توفیق مل گئی تو کیا ان لوگوں کو پیسے لوٹانا لازمی ہیں؟ یا صرف سچ بتا کر معافی مانگ لینا کافی ہوگا؟
سائل پر لازم ہے کہ بصدقِ دل اپنے اس گناہ پر توبہ واستغفار کرے اور چندہ دینے والوں نے جس کام کے لئے چندہ دیا تھا تو خرچ کردہ رقم چندہ دینے والوں کی اجازت سے اس میں لگائے۔
کمافی البحر الرائق: ولوجمع مالاً لیُنفقه فی بناء المسجد فأنفق بعضه فی حاجته ثم رد بدله فی نفقة المسجد لایسعه ان یفعل ذلك فاذا فعله وکان یعرف صاحبه ضمن له بدله أو استاذنه فی صرف عوضه فی المسجد اھ(5/251)۔
وفی البزازیة علی ھامش الھندیة: جمع مالاً لنفقة المسجد من الناس وصرفه فی حاجة نفسه ثم انفق مثلھا لایسعه ذلك فان عرف صاحبه بعینه ردّہ علیه او جدّد الإذن منه وان لم یعرف صاحبه بعینه استامر الحاکم مرة لرفع الإثم أما الضمان فواجب علی کل حال وان بعذر یرجی فی الاستحسان أن ینجو بانفاق مثله اھ(4/82)