السلام علیکم ورحمۃ الله و برکاتہ!
سوال نمبر ۱۔ اسلام میں فتوی کا مقام اور حیثیت کیا ہے ؟
سوال نمبر ۲۔ اگر کوئی شخص فتوی کو ماننے سے انکار کر دے تو کیا حکم ہے؟
سوال نمبر 3۔ اگر کوئی شخص یا عالم فتوی کو تو ہین کے طور پر زمین پر پٹخ دے تو کیا کوئی قباحت ہے؟
سوال نمبر ۴۔ فتوی معلوم ہو جانے کے بعد اختیار ہوتا ہے کہ چاہے تو فتوی پر عمل کرے یا اپنی مرضی پر ؟
آپ حضرت والا سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ مندرجہ بالا سوالات کا جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔
فتوی حکم شرعی ہی کا دوسرا نام ہے، لہٰذا بلا کسی علمی اشکال کے اس کا انکار کرنا یا اس کی بے ادبی اورتوہین کرنے میں اندیشہ کفر ہے اگر کسی سے غیر شعوری طور پر اس طرح کی حرکات صادر ہو جائیں تو اس پر احتیاطا لازم ہے کہ تجدید ایمان و نکاح کر کے توبہ و استغفار بھی کرے ۔
كما في الفتاوى الهندية: رجل عرض عليه خصمه فتوى الأئمة فردها وقال جه بار نامه فتوى آورده قيل يكفر لأنه رد حكم الشرع وكذا لو لم يقل شيئا لكن ألقى الفتوى على الأرض وقال أين جه شرع است كفر اھ (2/ 272)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): [تنبيه] في البحر والأصل أن من اعتقد الحرام حلالا فإن كان حراما لغيره كمال الغير لا يكفر وإن كان لعينه فإن كان دليله قطعيا كفر، وإلا فلا اھ (4/ 223) واللہ اعلم بالصواب