السلام علیکم مفتیانِ کرام!
کیا ایک شحص دس لوگوں کی طرف سے عمرہ کرسکتا ہے؟ یعنی وہ دس لوگوں سے دس دس ہزار روپے فی کس لے کر جاتا ہے اور ان کی طرف سے مکہ مکرمہ جاکر دس عمرے کرلیتا ہے،کیا یہ طریقہ دونوں فریقین کے لئے جائز ہے؟
عمرہ کرنا ایک نفلی عمل ہے اور اس کا کسی بھی زندہ یا مردہ شخص کو ایصالِ ثواب کیا جاسکتا ہے،اس لئے چند لوگ مل کر اگر کسی کو تبرعاً عمرہ پر بھیج دیں اور وہ وہاں جاکر حسبِ استطاعت سب کی طرف سے عمرہ کرکے اس کا ثواب ان کو بخش دے تو شرعاً اس کی گنجائش ہوگی۔
کمافی الدر المختار: الأصل أن كل من أتى بعبادة مالیۃ جعل ثوابها لغيره وإن نواها عند الفعل لنفسه الخ
وفی الشامیة: (قوله بعبادة ما) أي سواء كانت صلاة أو صوما أو صدقة أو قراءة أو ذكرا أو طوافاأو حجا أو عمرة اھ(2/595)۔