میں نے آپ کا ترتیب دیا ہوا پوسٹر دیکھا جس میں نصف صاع کا وزن دو کلو (2KG) ہے لیکن ایک صاع کا وزن تین کلو (3KG) لکھا ہے جبکہ اس کا دُگنا ہونا چاہیئے تھا صاع کے وزن کا؟ پیمانہ بھی تحریر فرمائیں؟
صاع آٹھ رطل بغدادی تولے کے حساب سے دو سو ستر (۲۷۰) تولہ کا ہوتا ہے اور نصف صاع ایک سو پینتیس (۱۳۵) تولے کا۔ اور اسّی (۸۰) تولے کا وزن انگریزی ایک (۱) سیر کے برابر ہوتا ہے۔ اس حساب سے دو سو ستر(۲۷۰) تولے کا وزن تین سیر چھ چھٹانک کا ہوا جبکہ کلو کے حساب سے نصف صاع پونے دو کلو سے تھوڑا زیادہ بنتا ہے اسلئے احتیاطاً اور سہولت کے لیے دو کلو لکھ دیا جاتا ہے اور پورا صاع ساڑھے تین کلو سے تھوڑا زیادہ بنتا ہے۔
فی الہندیۃ: والصاع ثمانیۃ أرطال بالبغدادی والرطل البغدادی عشرون أستارًا کذا فی التبیین۔ والأستار اربعۃ مثاقیل ونصف مثقال الخ (ج:۱ ص:۱۹۲)
وفی معجم لغۃ الفقہاء: مقدار الصاع عند الحنفیۃ ۴، امداد ۸ ارطال، ۱۰۲۸ درہمًا= لترًا= ۲۱۷۲ غرامًا (ص: ۲۷۰)
وفی مجموعہ قواعد الفقہ: الصاع مکیال یسع الفا واربعین درہما من ماش او عدس قدّروہ بثمانیۃ أرطال (الی قولہ) وقدّر بوزن دیارنا مائتان وسبعون تولجہ امّا صاع الحجازیین فہو خمسۃ ارطال وثلث اھ (ص: ۳۴۶) واللہ اعلم