گناہ و ناجائز

اگر چار ماہ سے قبل اسقاط حمل کرادیا جائے تو گناہ کس کئ سر ہوگا؟

فتوی نمبر :
21989
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

اگر چار ماہ سے قبل اسقاط حمل کرادیا جائے تو گناہ کس کئ سر ہوگا؟

میری شادی کو چھ سال ہوگئے ہیں ایک بیٹی ہے اور میرے شوہر نے زبردستی ایک اسقاط حمل کروایا، اس کا گناہ کس کے سر ہوگا اور اس کا کیا کفارہ ہے؟ میں بہت پریشان ہوں ، اور اب تین سال سے مجھے دوسری اولاد بھی نہیں ہو رہی۔ براہ مہربانی جلدی اس مسئلہ کا حل بتائیں میں اپنے آپ کو بہت زیادہ گناہگار محسوس کرتی ہوں اور شدید کرب میں مبتلا ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر چار ماہ سے قبل اسقاط حمل کرایا ہو تو اس کی وجہ سے سائلہ پر کوئی گناہ نہیں، بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 21989کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات