کیا آپ مجھے بتاسکتے ہیں کہ ان تین لاحقوں میں کیا فر ق ہے؟علیہ السلام ،رضی اللہ عنہ ، اور رحمۃاللہ علیہ ،کیا ہم ان لاحقوں کو تبدیل کر سکتے ہیں ؟اور کیا ان کے علاوہ کے ساتھ ان کو استعمال کیا جاسکتاہے جیسے علیہ السلام حضرت علیؓ کے نام کے ساتھ ؟
مذکور تینو ں جملے محض دعائیہ ہیں اور ان میں سے پہلا جملہ انبیاء کرام علیہم السلام کیساتھ، دوسرا صحابہ کرام رضی اللہ علیہم اجمعین کیساتھ اور تیسرا عام نیکوکار اور تابعین کیساتھ عرفاً خاص ہے، خاص کر پہلےجملہ کا کسی کیساتھ استعما ل روافض کی علامات میں سے ہونے کے علاوہ عوام الناس کو دھوکہ دینے کے مترادف اور جھوٹ کو بھی شامل ہے اس لیے "علیہ السلام "کو کسی غیر نبی کے لیے استعمال کرنے سے احتراز چاہیے ۔جبکہ "رضی اللہ عنہ "غیرصحابی کے لیے استعمال کرنے کی گنجائش ہے، اگر چہ بہتر یہ ہے کہ اس کا استعمال صرف صحابہ کے اسماء مبارکہ کیساتھ کیا جائے، تاکہ کسی قسم کا شائبہ نہ ہو ۔
فی الأذكار - النووي: يستحب الترضي والترحم على الصحابة والتابعين فمن بعدهم من العلماء والعباد وسائر الأخيار، فيقال: رضي الله عنه، أو رحمه الله ، ونحو ذلك، وأما ما قاله بعض العلماء: إن قوله: رضي الله عنه مخصوص بالصحابة، ويقال في غيرهم : رحمه الله فقط ، فليس كما قال، ولا يوافق عليه، بل الصحيح الذي عليه الجمهور استحبابه الخ- (1 / 118)
وفی الفقه الاکبر: ان قوله علیه السلام من شعار اھل البدعة فلایستحن فی مقام المرام ۔(ص1679) واللہ أعلم بالصواب!