میرا سوال یہ ہے کہ بعض اوقات آدمی ایسی بات کہہ دیتا ہے، جس سے کسی شریعت اسلام کی بے حرمتی ہو سکتی ہے، لیکن کہنے والے کا مقصد ایسا نہیں ہوتا، بلکہ اس کو تو اپنی بات کی شدت کا احساس ہی نہیں ہوتا ، کہ اس کی بات کا کیا مطلب نکل سکتا ہے کیا ایسی صورت میں کفر واقع ہوتا ہے یا نہیں ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ شیعہ کاذبیحہ حلال ہے یا نہیں اور اگر غلطی سے شیعہ سے مرغی ذبح کروائی اورر خریدی تو اس کا کھانا حلال ہوگا کہ نہیں ؟
۱۔ اگر چہ بے خیالی یا لا علمی میں الفاظ کفریہ زبان سے نکل جانے کی وجہ سے آدمی کافر نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے نکاح فاسد ہوتا ہے تاہم شخص مذکور نے جو کلمات کہے ہیں وہ کیا ہیں اور کس موقع پر بولے گئے ہیں ، اس کی تصریح کر کے سوال دوبارہ کر لیا جائے تو انشاء اللہ اس پر بھی غور کیا جائے گا۔ (۲) جو شیعہ اثناء عشریہ فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں یا کوئی صریح کفریہ ، یا عقیدہ رکھتے ہوں جیسے حضرت علی ؓ کے الوہیت کے قائل ہوں یا قرآن کریم میں تحریف کا عقیدہ ہ رکھتے ہوں یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا پر تہمت لگاتے ہوں یا حضرت صدیق اکبرنے کی صحابیت کے منکر ہوں تو ایسے شیعہ کا فر ہیں ان کا ذبیحہ حرام ہے، ورنہ نہیں ۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): فقال: وما كان خطأ من الألفاظ ولا يوجب الكفر فقائله يقر على حاله، ولا يؤمر بتجديد النكاح ولكن يؤمر بالاستغفار والرجوع عن ذلك اھ (4/ 247)
و في الدر المختار: (لا) تحل (ذبيحة) غير كتابي من (وثني ومجوسي ومرتد) اھ (6/ 298)
وفيه أيضا : (وشرط كون الذابح مسلما حلالا خارج الحرم إن كان صيدا) (إلی قوله) (أو كتابيا ذميا أو حربيا) إلا إذا سمع منه عند الذبح ذكر المسيح (فتحل ذبيحتهما) اھ (6/ 296)