السلام علیکم!
میں نے سڑک پر کتے کو گاڑی سے ٹکر ماری، جس سے کتا مر گیا، جس میں میری غلطی نہیں تھی ، کتا سامنے آیا اچانک تو اس میں ڈرائیور گناہ میں آتا ہے یا نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں کتے کے مرنے سے اگر چہ شخصِ مذکور گناہ گار نہیں ہوا، مگر قصداً کتے کو بھی بلا وجہ مار نانا جائز اور گناہ ہے۔
كما في بحوث في قضايا فقهية معاصرة: والذي يظهر لي في هذه الصورة - والله سبحانه أعلم - أن الرجل الذي قفز أمام السيارة إن قفز بقرب منها بحيث لا يمكن للسيارة في سيرها المعتاد في مثل ذلك المكان أن تتوقف بالفرملة، وكان قفزه فجأة لا يتوقع مسبقا لدى سائق متبصر محتاط، فإن هلاكه أو ضرره في مثل هذه الصورة لا ينسب إلى سائق السيارة، ولا يقال: إنه باشر الإتلاف، فلا يضمن السائق، ويصير القافز مسببا لهلاك نفسه اھ (ص: 317)۔