السلام علیکم! مفتی صاحب میری گزارش ہے کہ مجھےتقریباً ڈھائی سال ہوگئے ہیں، میں سعودی عرب میں ہوں، مجھے پچھلے بیس دن پہلے پتہ چلا ہے کہ میری بیوی حاملہ تھی اور میری زوجہ نے ایک ناجائز بیٹی کو جنم دیا ہے، میں نے قانونی کاروائی کی ہے، جس میں پولیس اور کورٹ کہتی ہے کہ عورت کو کھلی آزادی ہے اور اس کی کوئی سزا نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی کیس بنتا ہے، جبکہ میرے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے، میں نے ان کو ہر سہولت دی ہوئی تھی، لہٰذا میں قانون اپنے ہاتھ میں لینا نہیں چاہتا ہوں، اسلام میں اس کیس کی کیا سزا ہے؟ آپ میری مدد کریں، آپ کی مہربانی ہوگی، اس کیس میں میری مدد کریں کہ قانون مجھے انصاف دے۔
نوٹ! میں کرونا ختم ہونے کے بعد تقریباً 2021ء کے گیارویں مہینہ میں سعودی عرب چلا گیا، اس سے پہلے میں چھ مہینہ گھر پر رہا تھا،اب یہ بچی پیدا ہوئی، 2/5/2024 کو یہ بچی پیدا ہوئی، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ بچی مجھ سے ثابت النسب ہے کہ نہیں؟ جبکہ میں اس بچی کے اپنے نسب سے انکار کرتا ہوں، جو بھی حکمِ شرعی ہو تحریر فرمائیں۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعۃً سائل کی بیوی نے سائل کی عدم موجودگی میں زنا کا ارتکاب کیا ہو اور مذکور بچی اسی زنا کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہو تو اس کی وجہ سے سائل کی بیوی سخت گناہ گار ہوئی ہے، لہٰذا اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے اور آئندہ اس قسم کے حرام کاموں سے اجتناب کے ساتھ ساتھ شوہر سے بھی معافی مانگے، جبکہ مذکور بچی کا نسب سائل کی طرف منسوب ہوگا، تاہم اگر سائل اس بچی کے نسب کا منکر ہو تو اس کے لئے لعان کے طریقہ کار پرعمل کیا جائے گا، چنانچہ عدالت میں لعان کے طریقہ کار کے مطابق جب سائل اس بچی کے نسب کا انکار کردے تو قاضی دونوں کے درمیان جدائی کرادے گا اور عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی اور عدت کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی،اس صورت میں بچی کا نسب ماں سے ثابت ہوگا۔
کما فی صحیح البخاری: الولد للفراش وللعاهر الحجر الخ (كتاب الفرائض ج 2 ص 999 ط: قدیمی کتب خانہ)۔
وفی الھندیۃ: قال أصحابنا: لثبوت النسب ثلاث مراتب (الأولى) النكاح الصحيح وما هو في معناه من النكاح الفاسد: والحكم فيه أنه يثبت النسب من غير دعوة ولا ينتفي بمجرد النفي وإنما ينتفي باللعان، فإن كانا ممن لا لعان بينهما لا ينتفي نسب الولد كذا في المحيط الخ ( الباب الخامس عشر فی ثبوت النسب ج 1 ص 536 ط: ماجدیہ )۔
وفی الھندیۃ: إذا التعنا فرق الحاكم بينهما ولا تقع الفرقة حتى يقضي بالفرقة على الزوج فيفارقها بالطلاق، فإن امتنع فرق القاضي بينهما، وقبل أن يفرق الحاكم لا تقع الفرقة، والزوجية قائمة، يقع طلاق الزوج عليها وظهاره وإيلاؤه، ويجري التوارث بينهما إذا مات أحدهما الخ (الباب الحادی عشر فی اللعان ج 1 ص 516 ط: ماجدیہ )۔