حافظ قرآن اگر قرآن بھول جائے تو اس کی قیامت والے دن کیا سزا ہے حدیث کی روشنی میں بتادیں ۔
قرآنِ کریم کو یادکرنے کے بعد جان بوجھ کر بھلا دینا بہت بڑا گناہ ہے، اورایسےشخص کے بارے میں حدیث شریف میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، جیساکہ ابو داود شریف کی روایت ہے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص قرآنِ کریم (حفظ )پڑھ کر بھول جائے تو وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہوگا ، اسی طرح ترمذی شریف میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے سامنے میری امت کے اَجر و ثواب پیش کیے گئے ، یہاں تک کہ وہ کوڑا کرکٹ بھی ( اجر ثواب کے اعتبار سے پیش کیا گیا ) جو آدمی مسجد سے نکال پھینکتا ہے ، اور مجھ پر میری اُمت کے گناہ پیش کیے گئے تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ قرآن کی کوئی سورت یا کوئی آیت کسی آدمی کو (یاد کرنے کی توفیق) دی گئی اور پھر اس نے اسے بھلا دیا ، البتہ فقہاء احناف کے نزدیک مذکور وعیدیں اس شخص کے بارے میں آئی جو اپنی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے قرآنِ کریم کو اس طرح بھول جائے کہ وہ اسے دیکھ کر ناظرہ بھی نہ پڑھ سکتا ہو ، جبکہ جو شخص مسلسل محنت اور توجہ کے ساتھ قرآن کریم کو یادکرتا رہے اور حافظہ کی کمزوری کی وجہ سے منزل اسے پختہ یاد نہ رہ سکے ، تو امید ہے کہ ایسا شخص ان وعیدوں سے محفوظ رہےگا ۔
كما في سنن أبي داود : عن سعد بن عبادة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما من امرئ يقرأ القرآن، ثم ينساه، إلا لقي الله عز وجل يوم القيامة أجذم ( باب التشديد فيمن حفظ القرآن ثم نسيه، ج 2، ص 75، رقم : 1474 ، ط : المكتبة العصرية، بيروت)-
وفي سنن الترمذي : عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «عرضت علي أجور أمتي حتى القذاة يخرجها الرجل من المسجد، وعرضت علي ذنوب أمتي، فلم أر ذنبا أعظم من سورة من القرآن أو آية أوتيها رجل ثم نسيها ( ج 5، ص 178 ، رقم : 2916 ، ط : مطبعة مصطفى ، مصر)-
وفي مرقات المفاتيح شرح مشكاة المصابيح : وعن سعد بن عبادة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من امرئ يقرأ القرآن ثم ينساه "، أي بالنظر عندنا، وبالغيب عند الشافعي، أو المعنى ثم يترك قراءته نسي أو ما نسي ( كتاب فضائل القرآن، ج 4، ص 1502، ط : دار الفكر، بيروت)-
وفي فتح الودود شرح سنن أبي داود : وقد قال العلماء : إن نسيان القرآن كبيرة، لكن ذلك إذا صار بحيث لا يقدر أن يقرأ بالنظر، والله تعالى أعلم (باب التشديد فيمن حفظ القرآن ثم نسيه، ج 2، ص 143، ط : مكتبة أضواء المنار، المدينة المنورة)-