دس سال پہلے میں نشے کی حالت میں تھا، میں نے ایک بلی کو بندوق سے مارا، اب بلی کو مار کر میں پریشان ہوں، آپ سے گزارش کی جاتی ہے کہ مجھے کفارے کے بارے میں بتادیجیے ؟
سائل نے اگر بغیر کسی عذر کے بلی کو مارا ہو تو اس سے سائل گناہ گار ہوا ہے، لہذا اس پر لازم ہے کہ بصدقِ دل بارگاہِ خداوندی میں تو بہ واستغفار اور آئندہ کے لئے اس قسم کے ناجائز کاموں سے بچنے کا پختہ عزم کرے، اس کے علاوہ کوئی کفارہ سائل پر لازم نہیں۔
ففی صحيح مسلم: عن ابن عباس، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا تتخذوا شيئا فيه الروح غرضا» (3/ 1549)۔
و في شرح النووي على مسلم: رواية لا تتخذوا شيئا فيه الروح غرضا قال العلماء صبر البهائم أن تحبس وهى حية لتقتل بالرمى ونحوه وهو معنى لا تتخذوا شيئا فيه الروح غرضا أى لا تتخذوا الحيوان الحى غرضا ترمون إليه كالغرض من الجلود وغيرها وهذا النهى للتحريم ولهذا قال صلى الله عليه و سلم فى [ 1958 ] رواية بن عمر التى بعد هذه لعن الله من فعل هذا ولأنه تعذيب للحيوان واتلاف لنفسه وتضييع لماليته وتفويت لذكاته ان كان مذكى ولمنفعته ان لم يكن مذكى اھ (13/ 108)۔