میری بہن پر ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ تمہاری بہن نے میری بیٹی کے لیے دلالی کی ہے، مطلب کہ تمہاری بہن نے میری بیٹی کو فلاں لڑکے کے ساتھ بھاگنے کا کہا تھا، اور اس کے بعد اس شخص نے اپنی بیٹی کو قتل کیا ،غیرت کے نام پر، ابھی وہ اس کوشش میں ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی موت میری بہن کے سر کرے ،کیا یہ ٹھیک ہے، اگر یہ بندہ میرے ساتھ کریں تو شریعت کیا کہتی ہے ؟اس بارے میں براہ کرم نازک مسئلہ ہے میری بہن کو اب مارنے کی کوشش میں مگن ہے براہ کرم جواب جلدی دیجیے۔
مذکور شخص کے لیے محض اس الزام میں سائل کی بہن کو قتل کرنا کہ اس نے مذکور شخص کی بیٹی کو غیر مرد کے ساتھ بھاگنے میں مدد کی ہے، شرعاً نا جائز اور حرام ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس ناجائز ارادے سے باز آئے ، بصورت دیگر سائل اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا بھی مجاز ہے۔
قال الله تعالى : {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا } [النساء: 93] ۔
و في الدر المختار: (القتل) الذي يتعلق به الأحكام الآتية من قود ودية وكفارة وإثم وحرمان إرث (خمسة) وإلا فأنواعه كثيرة كرجم وصلب وقتل حربي، الأول (عمد، وهو أن يتعمد ضربه) أي ضرب الآدمي في أي موضع من جسده (الى قوله) (وموجبه الإثم) فإن حرمته أشد من حرمة إجراء كلمة الكفر لجوازه لمكره، بخلاف القتل. (و) موجبه (القود عينا) فلا يصير مالا إلا بالتراضي اھ (6/ 528) والله اعلم بالصواب