سیریل نمبر محترم مولانا صاحب ! میں نے پوچھا تھا کہ آیا کہ اس صورت میں زنا واقع ہوا یا نہیں ؟ آپ کا جواب واضح نہیں، ’’زنا ہی ہے‘‘ اگر زنا ہے تو پھر تو سزا بھی ہونی چاہیے۔ در حقیقت وہ لڑکا میں خود ہوں اور اس کے متعلق بہت ہی احساس جرم ہو رہا ہے۔ سر ہم نے لباس نہیں اتارا تھا اور نہ ہی کوئی اور حرکت ہوئی، مولانا صاحب میں مایوس ہو گیا ہوں اور احساس جرم کرتا ہوں اللہ تعالی کے سامنے ۔ یہ سوچتے ہوئے زندگی گزارنا میرے لیے نا ممکن ہے کہ میں ایک زانی ہوں ۔ اس واقعہ کے پیش آنے کے بعد میری کوئی لڑکی دوست نہیں ، مولانا صاحب کیا میں عدالت میں جاؤں اور ان کے سامنے اپنے اقرار جرم کرلوں کہ میں نے زنا کیا ہے تو میرے لیے اسلام کا کیا حکم ہے یا کچھ اور ؟ میں نے آپ کے بہت سارے فتاوی پڑھے ہیں آپ کا جواب تفصیلی ہوتا ہے لیکن میرے سوال کی تفصیل میں آپ نے انتہائی اختصار سے کام لیا ہے۔ اب بہت زیادہ انتظار کے بعد میرے ذہن میں دو سوچیں رہ گئی ہیں برائے مہربانی مجھے جواب دیں کیا کسی نامحرم عورت کی گالوں پر بھو سا دینا زنا ہے؟ شریعت کی رو سے میری کیا سزا ہے ؟ کیا ہم دونوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی ہے ؟ یا اللہ تعالی مجھے معاف نہیں کرے گا کیونکہ ہم نے زنا کیا ہے؟ برائے مہربانی تفصیلا جواب دیں ۔
کسی اجنبیہ کے رخسار پر بوسہ دینا اگر چہ حقیقۃً زنا نہیں اور نہ ہی اس پر زنا کی سزا لاگو ہو سکتی ہے، لیکن زنا کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے سخت گناہ اور حرام ہے اگر اسلامی قانون نافذ العمل ہوتا تو اس پر تعزیری سزا ہوتی ، تاہم جب اللہ نے اس گناہ پر پردہ رکھا ہے تو اس کو افشاء کرنے اور عدالت میں پیش ہو کر اقرار کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ اس پر بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ اس طرح کے عمل سے مکمل احتراز لازم ہے ۔