گناہ و ناجائز

نقل کرکے حاصل کی ہوئی ڈگری کی ملازمت کا حکم

فتوی نمبر :
98598
| تاریخ :
2026-08-19
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

نقل کرکے حاصل کی ہوئی ڈگری کی ملازمت کا حکم

اگر میں امتحان میں مکمل طور پر نقل کرکے ڈگری حاصل کروں، اور پھر اس ڈگری کی بنیاد پر ملازمت حاصل کروں، تو کیا میں نے کسی دوسرے شخص کا حق مارا ہے؟ اگرچہ مجھے ملازمت میری مہارت (Skills) کی بنیاد پر ملی ہو، لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ کمپنی میں اس عہدے پر بیٹھنے کے لیے ڈگری کا ہونا ضروری ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا امتحان میں نقل کر کے ڈگری حاصل کرنا اگرچہ دھوکہ دہی ،جعل سازی اور دیگر باصلاحیت طلباءکرام کی حق تلفی کیوجہ سے شرعاً جائز نہیں جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوگا اس لئے اولاً تو اس طرح کے غیر شرعی امور کے ارتکاب سے اجتناب لازم ہے۔ تاہم اگر سائل اس طریقہ پر ڈگری حاصل کرکے کوئی جائز ملازمت اختیار کرلیتا ہے اور اس میں مذکور ملازمت کی اہلیت اور استعداد موجود ہو اور دوران ملازمت سائل مفوّضہ امور کی انجام دہی بھی پوری دیانت داری کے ساتھ کرلیتا ہے تو ایسی صورت میں سائل کے لیے اس ملازمت سے حاصل شدہ آمدنی کو اپنے استعمال میں لانا شرعاً جائز اور درست ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی سنن الترمذی :قالﷺ؛من غشّ فلیس مِنّا(ج3 ص598)۔
وفی الھندیہ:الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها(كتاب الاجارة، الباب الثاني ،متي يجب الاجر ج 4 ص 413 ط: المكتبة الرشيدية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 98598کی تصدیق کریں
0     36
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات