گناہ و ناجائز

نقل کرکےکسی کلاس میں داخل ہونا کسی کا حق مارنے کے مترادف ہے؟

فتوی نمبر :
98263
| تاریخ :
2026-08-08
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

نقل کرکےکسی کلاس میں داخل ہونا کسی کا حق مارنے کے مترادف ہے؟

میں نے اپنے سمسٹر کے تمام امتحانات میں نقل کی اور اس کے ذریعے ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد میں نے ایک داخلہ امتحان (Entrance Exam) دیا، جس میں اہلیت کے لیے میری حاصل کردہ ڈگری ضروری تھی۔ اس امتحان میں میں نے کوئی نقل یا دھوکہ دہی نہیں کی، بلکہ اپنی قابلیت سے امتحان پاس کیا اور منتخب ہوگیا۔ کیا اسلام کی رو سے میں نے کسی دوسرے شخص کا حق مارا ہے؟
مثلاً اگر کسی داخلہ امتحان کے لیے بی ٹیک کے چوتھے سال کے طلبہ میں سے کم از کم 75 فیصد نمبر ہونا اہلیت کی شرط ہو، اور چار طلبہ میں سے صرف دو کو منتخب کیا جانا ہو، جبکہ میں نے اپنی ڈگری مکمل طور پر امتحانات میں نقل کرکے حاصل کی ہو اور اسی ڈگری کی بنیاد پر 75 فیصد سے زیادہ نمبروں کے ساتھ اس داخلہ امتحان کے لیے اہل قرار پایا ہوں، اور منتخب ہونے والے دو افراد میں سے ایک میں بھی شامل ہوگیا ہوں، تو کیا میں نے کسی دوسرے شخص کا حق مارا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ امتحانات میں نقل کرنا خیانت اور دھوکا دہی جیسے امور پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز ہے؛ لہٰذا سائل کے لیے محنت کرنے کے بجائے اپنے سمسٹر کے امتحانات میں نقل کرنا جائز عمل نہیں تھا، جس پر سائل کو توبہ و استغفار اور آئندہ کے لیے اس طرح کی خیانت اور دھوکا دہی سے اجتناب لازم ہے۔ تاہم ان امتحانات کی بنیاد پر سائل کو جو ڈگری حاصل ہوئی ہے، اس میں سائل کے نمبرات 75٪ یا اس سے زائد ہوں، جس سے سائل مذکورہ ادارے کی شرائط پر پورا اترتا ہو، اور سائل میں ملنے والی ملازمت اور اس کے مفوّضہ امور کی اہلیت اور صلاحیت بھی موجود ہو، تو ایسی صورت میں سائل کے لیے اس ملازمت کا حصول جائز ہوگا اور سائل کسی کا حق غصب کرنے کے گناہ کا مرتکب شمار نہ ہوگا۔ تاہم عملی زندگی میں خیانت اور دھوکا دہی سے اجتناب کرنا اور امانت داری کے ساتھ اپنے مفوّضہ امور کو سرانجام دینا لازم اور ضروری ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح البخاری: عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبيّ صلى الله عليه وسلّم قال: "آية المنافق ثلاث: إذا حدّث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان. (كتاب الإيمان، باب علامة المنافق، ج:1،ص:143،مكتبة البشرى)
وفی مرقاۃ المفاتیح: فالكذب الإخبار على خلاف الواقع وحق الأمانة أن تؤدي إلى أهلها، فالخيانة مخالفة لها. (كتاب الإيمان، باب الكبائر وعلامات النفاق، ج: 1، ص: 226، مكتبة حقانية)
وفی الفتاوی العالمگیریۃ: الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها. (كتاب الاجارة، الباب الثاني: متي يجب الاجر، ج: 4، ص: 413، ط: المكتبة الرشيدية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 98263کی تصدیق کریں
0     24
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات