میں ایک سرکاری ملازم ہوں ۔ ہمیں ’’پراویڈنٹ فنڈ‘‘ کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جس میں ہمیں طے شدہ رقم کے ساتھ اپنی مرضی سے رقم شامل کرنے کا بھی اختیار ہوتا ہے ۔ اور سال کے آخر میں ہمارے فنڈا کاؤنٹ میں کچھ رقم سود ،نفع کے نام پر شامل کی جاتی ہے۔ اسی طرح ہر سال جمع شدہ تمام رقم پر منافع جون کے آخر میں شامل کیا جاتا ہے۔ براہ کرم بتلائیں کہ کیا یہ حلال ہے یا حرام ؟ دوسرے یہ کہ ایک بحث چل رہی کہ اگر یہ حرام ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بچت سے سونا خرید لے اور جب قیمت بڑھ جائے تو اسے بیچ دے (یعنی اصل رقم سے زیادہ ہو جائے) تو یہ کیوں حلال ہو جاتا ہے ؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
پراویڈنٹ فنڈ کے نام سے گورنمنٹ کی طرف سے ہر ماہ جبراً جو رقم ملازم کی تنخواہ سے کاٹی جاتی ہے وہ اور اس کے ساتھ سود یا منافع کے نام سے ملائی گئی رقم ملازم کی تنخواہ کا ہی حصہ ہے، اس کے لیے اس کا وصول کرنا بھی جائز اور درست ہے۔ البتہ اگر اس رقم کی کٹوتی اختیاری ہو یا اس کا کچھ حصہ اختیاری ہو تو یہ تشبہ بالربوا اور ذریعہ سود میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے ، اس صورت میں اس پر ملنے والے نفع کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں۔ اس کی حرمت سودی معاملہ کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے اور سونے کی خریداری کے بعد اسے بیچنے پر نفع کا جواز اصل چیز کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے ہے نہ کہ سودی معاملہ کی بنا پر، اس لیے اس قسم کے قیاس کرنے سے احتراز چاہیے۔