محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے،
میرا خلع عدالت سے منظور ہو چکا ہے، اور خلع کی ڈگری بھی جاری ہو چکی ہے، اب میں عدت کے معاملے میں شرعی رہنمائی چاہتی ہوں،میری خواہش ہے کہ میں 40 دن کی عدت اختیار کروں، براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا میرے لیے 40 دن کی عدت اختیار کرنا شرعاً درست ہے، یا خلع کے بعد مجھ پر کوئی اور مدتِ عدت لازم ہے؟جزاکم اللہ خیراً۔
سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کہ مذکور خلع کی ڈگری شوہر کی رضامندی کے بعد جاری ہوئی تھی،یا عدالت نے شوہر کی مرضی کے بغیر سائلہ کی درخواست پر یک طرفہ طور پر جاری کی تھی؟ کیونکہ یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری سے عموماً شرعی طور پر میاں بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوتا ،بلکہ بدستور قائم رہتا ہے،لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں اگر شوہر یا اس کی طرف سے مقرر کردہ وکیل نے عدالتی خلع کی ڈگری پر دستخط کئے ہوں، یا شوہر نےزبانی اس پر رضامندی کا اظہار کیا ہو تو اس صورت میں تو شرعاً یہ خلع معتبر ہوگا، جس کی وجہ سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہوکرمیاں بیوی کا نکاح ختم ہو چکا ہے،اور سائلہ پر عدت لازم ہوچکی ہے، جبکہ خلع کی عدت بھی وہی ہوگی ،جو کہ طلاق کی عدت ہوتی ہے،یعنی اگر عورت حاملہ نہ ہو،اوراس کو حیض آتاہوتو تین ماہواریاں گزرنے اور اگرعمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہوتوخلع کے بعد تین ماہ گزرنے سے اس کی عدت مکمل ہوگی،اور اگر عورت حاملہ ہوتو اس کی عدت وضع حمل ہوگی ، چنانچہ مذکور خلع کے شرعاً معتبر ہونے کےبعد بھی سائلہ کیلئے محض چالیس یوم عدت گزارنا کافی نہ ہوگا،بلکہ اس کو شرعی عدت پوری کرنا لازم ہوگا۔
قال اللہ تبارک وتعالی:{وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ} [البقرة: 228]۔
وفی مقام آخر:{وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: 4]۔
و في احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لايملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والأخروكيل الزوج في الخلع (الى قوله)وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال من ملكها اھ(3 / 153)۔
وفی سنن الدارقطني:عن عكرمة عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم «جعل الخلع تطليقة بائنة».(5/ 839)۔
وفی الدر المختار مع حاشية ابن عابدين: في التتارخانية وغيرها:مطلق لفظ الخلع محمول على الطلاق بعوض؛ حتى لو قال لغيره اخلع امرأتي فخلعها بلا عوض لا يصح (قوله: أو اختلعي إلخ) إذا قال لها اخلعي نفسك فهو على أربعة أوجه: إما أن يقول بكذا فخلعت يصح وإن لم يقل الزوج بعده: أجزت، أو قبلت على المختار؛ وإما أن يقول بمال ولم يقدره، أو بما شئت فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده۔(3/ 440)۔
وفی الفتاوى العالمكيرية :إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية كذا في السراج الوهاج.والعدة لمن لم تحض لصغر أو كبر أو بلغت بالسن ولم تحض ثلاثة أشهر كذا في النقاية. اھ(1/ 526)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0