ایک بیوی شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہے اور شوہر بیوی کا نان نفقہ (خرچہ) نہیں اٹھا رہا ہے۔ دونوں 3/4 سال سے زائد عرصے سے جسمانی تعلق قائم کرنے سے باز رہے ہیں۔ اب جسمانی طور پر دور رہنے کے بعد، کیا بیوی کسی دوسرے سے شادی کر سکتی ہے؟
واضح ہو کہ میاں بیوی کے فقط ایک دوسرے سے الگ رہنے سے (چاہے جتنا لمبا عرصہ کیوں نہ ہو) شرعاً ان کا نکاح ختم نہیں ہوتا ،جب تک کہ شوہر طلاق ،خلع یا فسخِ نکاح کے ذریعے اسے اپنی زوجیت سے الگ نہ کر دے ،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے طلاق نہیں دی ہے تو محض ایک دوسرے سے الگ رہ کرازدواجی تعلقات قائم نہ کرنے سے عورت پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ دونوں کا نکاح بدستور برقرا ر ہے، چنانچہ بیوی کا اس بنا ء پر کسی اور شخص سے نکاح قطعاً جائز نہیں بلکہ نکاح پر نکاح ہونے کی وجہ سے دوسرا نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔البتہ اگر دونوں کے درمیاں نباہ ممکن نہ ہو اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہوں، تو عورت اپنے شوہر سے طلاق یا خلع لیکر عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے ۔
کما فی النہایۃ : وشرعاً: رفع قيد النكاح في الحال بالبائن أو المآل بالرجعي، بلفظ مخصوص هو ما اشتمل على الطلاق۔ اھ(کتاب الطلاق،ج:8،ص1،ط:مرکز الدراسات الاسلامیۃ)
و فی الہندیہ : (أما تفسيره) شرعا فهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق(و أما ركنه) فقوله : أنت طالق . و نحوه كذا في الكافي۔ اھ (باب الطلاق السنی،ج:1،ص:348،ط:ماجدیۃ)