السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
جناب مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ طالب علم کو دروس کے دوران شادی کرنا کیسا ہے، کیونکہ تقوی ضروری ہے اور شادی کے بغیر میرے خیال میں پرہیزگاری مشکل ہے، لہزا سائل اس بات کو انتہائی پریشان ہے، مہربانی فرما کر تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں، جزاکم اللہ
طالبعلم اگر دورانِ تعلیم شادی کرکے بیوی بچوں کا نان و نفقہ اور دیگر حقوق ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو، یا اگر نان و نفقہ کی ذمہ داری کوئی اُٹھاتا ہو تو دورانِ تعلیم بھی شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں ورنہ شادی کرنے کے بجائے روزے رکھ کر اور گرم غذا کو ترک کرکے اپنے جذبات کو کنٹرول کرنا چاہئے۔
کما فی بدائع الصنائع: لا خلاف أن النکاح فرض حالۃ التوقان، حتی أن من تاقت نفسہ إلی النساء بحیث لا یمکنہ الصبر عنہن وہو قادر علی المہر والنفقۃ ولم یتزوج یأثم، واختلف فیما إذا لم تتق نفسہ إلی النساء علی التفسیر الذی ذکرنا، قال نفاۃ القیاس مثل داود بن علی الأصفہانی وغیرہ من أصحاب الظواہر: انہ فرض عین بمنزلۃ الصوم والصلاۃ وغیرہما من فروض الأعیان۔ حتی أن من ترکہ مع القدرۃ علی المہر والنفقۃ والوطء یأثم۔ واللہ اعلم باالصواب