السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ!
جناب ! سوال یہ ہے کہ کیا اگر کوئی یہ کہے کہ میں نے اللہ اور رسول ﷺ کی گواہی میں نکاح کیا تو کیا ایسا شخص کافر ہو جاتا ہے ؟ ہمارے یہاں ایک مولوی صاحب نے کہا کہ ایسا شخص حنفیوں کے نزدیک کافر ہو جاتا ہے۔ مہربانی کر کے راہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ اگر کسی شخص نے اس اعتقاد کے ساتھ کہ نبی علیہ السلام بھی اللہ کی طرح حاضر ناظر اور عالم الغیب ہیں , نکاح کرتے وقت یہ کہا کہ " میں اللہ اور رسول کی گواہی میں نکاح کرتا ہوں " تو اس کا یہ عمل شرعاً ناجائز اور حرام اور گناہِ کبیرہ ہے ۔ بلکہ بعض روایات میں اس کے اس قول کو , مذکور اعتقاد کے ساتھ کفر شمار کیا گیا ہے، لہذا ایسے جملے کہنے سے اجتناب کرنا چاہئیے ۔
كما في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: حل الاختلاف عند عدم قصد الاستهزاء (إلى قوله) ويتزوجه بشهادة الله ورسوله (130/5)۔
و في الدر المختار مع رد المحتار : تزوج بشهادة الله ورسوله لم يجز، بل قبل يكفر و في حاشية ابن عابدين تحت (قوله: قيل یکفر) لأنه اعتقد أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عالم الغيب قال في التتارخانية وفي الحجة ذكر في الملتقط أنه لا يكفر لأن الأشياء تعرض على روح النبي - صلى الله عليه وسلم - وأن الرسل يعرفون بعض الغيب قال تعالى . عالم الغيب فلا يظهر على غيبه أحدا [الجن: 26] إلا من ارتضى من رسول) [الجن: 27)(3/27) ۔
و فی مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر : فلو تزوج امرأة بشهادة الله تعالى ورسوله لا يجوز النكاح وعن قاسم الصفار وهو كفر محض لأنه اعتقد أن رسول الله - عليه السلام - يعلم الغيب وهذا كفر . (320/1)۔
وفي التارخانية: إنه لا يكفر لأن بعض الأشياء يعرض على روحه - عليه الصلاة والسلام - فيعرف ببعض الغيب قال الله تعالى: (عالم الغيب فلا يظهر على غيبه أحدا) [الجن: 26] إلا من ارتضى من رسول) (الجن :27)(1/320)
و فی المحيط البرهاني في الفقه النعماني: تزوج امرأة بشهادة الله ورسوله لا يجوز؛ لأن هذا نكاح لم یحضرہ شهود. وعن أبي القاسم الصغار رحمه الله أنه : قال: يكفر من فعل هذا لأنه اعتقد أن رسول الله عليه السلام عالم الغيب اهـ (29/3) ۔