ویڈیو کال پر نکاح کرنا کیسا ہے؟
واضح ہو کہ نکاح کے انعقاد کیلئے متعاقدین (لڑکا، لڑکی) یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیلوں اور گواہوں کا ایک مجلس میں موجود ہونا لازم اور ضروری ہے، جس کی وجہ سے انٹرنیٹ پر ویڈیو کال یا ٹیلیفون وغیرہ کے ذریعہ نکاح شرعاً درست نہیں، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر سائل کے لئے بوقت نکاح حاضری ممکن نہ ہو اور وہ فوراً نکاح بھی کرنا چاہتا ہو تو اسے چاہئے کہ باقاعدہ دو گواہوں کی موجودگی میں بذریعہ فون یا خط وغیرہ اپنے والد یا بھائی وغیرہ کو عقد نکاح میں اپنی طرف سے ایجاب وقبول کرنے کیلئے وکیل بنالے، پھر جب مجلس نکاح قئام ہو تو وہ وکیل نکاح خواں کے سامنے سائل کی طرف سے ایجاب و قبول کرے، مثلاً یہ کہ میں نے اتنےحق مہر کے عوض فلانہ بنت فلاں کا اپنے بھائی کے نکاح میں قبول کیا، چنانچہ اس طرح کے ایجاب و قبول سے یہ نکاح شرعاً بھی منعقد ہوجائے گا۔