نکاح

گوہر شاہی عقائد کے حامل آدمی کی بیٹی سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
68466
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

گوہر شاہی عقائد کے حامل آدمی کی بیٹی سے نکاح کا حکم

تر جمہ:السلام علیکم !میرا نام بلال ہے،میرے چھوٹے بھائی کا نام مزمل ہے،اور میرے چچا کا نام طاہر ہے، جو گوہر شاہی سسٹم میں کافی عرصہ سے ہے،ہم نے اپنے بھائی کی منگنی اپنے چچا کی بیٹی سے کی ، مگر اسے گوہر شاہی کی اونچ نیچ میں توڑ دی تھی ابھی ہم دوبارہ اس لڑکی سے اپنے بھائی کا نکاح کروانا چاہتے ہیں -
میرا سوال یہ ہے کہ کیا ان سے نکاح جائز ہے اگر جائز ہے تو ہمیں ان سے کیسے تعلقات رکھنے چاہئیے ؟ شادی سے پہلے بھی اور شادی کے بعد بھی , کیا لڑکی شادی کے بعد اپنے گھر آ , جاسکتی ہے ؟ اور کیا مزمل اپنے سسرال آ , جاسکتا ہے ؟ اس کا کھانا پینا کیسا ہے ؟ ہمارے پورے گھر کو چچا کی لڑکی بہت پسند ہے،مگر دین کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمادیجئے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ گوہر شاہی اور اس کے پیروکار اپنے غلط اور فاسد عقائد و نظریات کی بنیاد پر ایک گمراہ جماعت ہے, ان سے میل جول رکھنا اور رشتے ناطے کرنا شرعاً جائز نہیں ،لہذا سائل کی چچا کی بیٹی بھی اگر اس جماعت کی پیروکار ہو تو اس کے ساتھ نکاح کرنا درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار : (و) حرم نكاح (الوثنية) بالإجماع اھ
و فی رد المحتار : و في الفتح : و يدخل في عبدة الأوثان عبدة الشمس و النجوم و الصور التي استحسنوها و المعطلة و الزنادقة و الباطنية و الإباحية . و في شرح الوجيز و كل مذهب يكفر به معتقده اھ(3/45)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیمان عظیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68466کی تصدیق کریں
1     828
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات