گناہ و ناجائز

لے پالک ماں اور حقیقی دونوں میں سے کی اطاعت لازم ہے ؟

فتوی نمبر :
96860
| تاریخ :
2026-06-27
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

لے پالک ماں اور حقیقی دونوں میں سے کی اطاعت لازم ہے ؟

السلام علیکم! میں (سائل) ہم 5 بہنیں ہیں، دو بڑی بہنیں اور ایک بڑا بھائی اور ایک چھوٹا بھائی ہے، میری خالہ جو کہ میری والدہ سے بڑی ہے، اُن کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی ، تو میری پیدائش پر میری خالہ مجھے گود لینے کی خواہش کی کہ اُسے (سائل) کو گود دے دو، اور اُس کی اچھی تربیت کروں گی اور جیسا تم (والدہ) کہو گی، ویسا ہی کروں گی۔ بچپن میں ہی جب میری والدہ عید پر کسی ایونٹ وغیرہ پر کپڑے لے کر آئیں تو خالہ نے غیر شرعی علت بیان کرکے پہنانے سے منع کر دیا (پینٹ شرٹ)، اور بلوغت سے پہلے تک دو ہفتے میں ایک دفعہ گھر مجھے ملوانے کے لیے لے جاتے، اور اب بھی 15 دن میں ایک ہی دفعہ اپنے گھر جانے کی اجازت ہے، جبکہ میری عمر 21 سال ہے، اسی طرح گھر کے کسی ایونٹ میں جانے کی اجازت نہیں ہے، (گھومنا، پھرنا ہو یا دعوتیں)۔ بہرحال اُنہوں نے بچپن سے ہی بہت اچھی تربیت کی، حفظ کروایا، عالم کا کورس کروایا، ابھی موقوف علیہ کے سال میں ہوں، دو دفعہ عمرہ بھی کروایا، اپنی ولدیت کروا کر ابھی دوبارہ ولدیت صحیح کروا لی ہے، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ دونوں سے،اب بات یہ ہے کہ میری ایک جگہ بات پکی ہوئی (منگنی) (خالو کی بھتیجی سے) جس میں سب کی رضامندی شامل تھی، (میری، گھر والوں اور خالہ کی بھی) لیکن بعد میں خالہ کی انا اور ذاتی مسئلہ کی وجہ سے یہ رشتہ ختم کر دیا، (جو کہ ہم میں سے کوئی نہیں چاہتا تھا)، اب دوسری لڑکی خالہ نے پسند کی، وہاں بات بھی پکی ہو گئی ہے، جس پر میری والدہ کو کوئی مسئلہ نہیں ہے، تو یہاں عیدی وغیرہ لینا اور یا دوسری موقع پر ہدایا لے کر جانا یہ سب خالہ دوسری خالاؤں کے ساتھ مل کر کرتی ہیں اور میری والدہ کو کچھ لینے دینے سے بھی منع کرتی ہیں، یہاں تک کہہ دیا کہ تم نے بیٹا دے دیا ہے، تمہاری ذمہ داری ختم ہو گئی ہے، اور شادی بھی میں اپنی مرضی سے ہی کروں گی، اور شادی کے بعد بھی یہ ہمارے ساتھ رہے گا،اب ایک ساری صورتِ حال سے مجھے کیا کرنا چاہیئے ، یا میں کیا کروں؟
(نوٹ):مقصد یہ ہے کہ میری زندگی کے فیصلے وغیرہ کا اختیار میری خالہ کو ہے، یا میری والدہ کو؟ اور میرے لیے کیا حکم ہے جس کی اطاعت اول درجہ میں ہے؟ جو بھی شرعی حکم ہو، واضح فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی دوسرے کی اولاد کو گود لے کر اپنی اولاد کی طرح اس کی تعلیم و تربیت اور دیکھ بھال کرنا شرعاً جائز اور اجر و ثواب کا باعث ہے، لیکن کسی کو گود لینے سے وہ بچہ شرعاً حقیقی اولاد کی طرح نہیں بن جاتا، بلکہ گود لینے کے باوجود حقیقی والدین کے ساتھ اس کا رشتہ اور جملۂ حقوق برقرار رہتے ہیں، لہٰذا سائل کی خالہ کا سائل کو اپنے والدین سے میل جول رکھنے کی تحدید کرنا یا ان کی والدہ کی خواہش کے باوجود اسے سائل کی خوشیوں میں شرکت ہونے اور اس میں حصہ ڈالنے سے روکنا درست طرزِ عمل نہیں، بلکہ ایک والدہ کی جذبات مجروح کرنے کے مترادف ہے، اس لئے اسے اپنے اس رویہ پر نظرِ ثانی کرنی چاہیئے ، اور سائل چونکہ عاقل بالغ ہے تو ان کےعملی زندگی سے متعلق فیصلوں میں اگرچہ وہ خود مختار ہے، لیکن اپنی خالہ کے جذبات اور ماں کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی والدہ کی خواہش کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے، اور حقیقی والدہ ہونے کے ناطے اس کی اطاعت خالہ سے بہرحال مقدم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كماقال الله تعالى في القرآن المجيد:ٱدۡعُوهُمۡ لِأٓبَآئِهِمۡ هُوَ أَقۡسَطُ عِندَ ٱللَّهِۚ(سورة الاحزاب:٥)
وفي احكام القران للقرطبى:وقال النحاس: هذه الآية ناسخة لما كانوا عليه من التبني وهو من نسخ السنة بالقرآن فأمر أن يدعوا من دعوا إلى أبيه المعروف فإن لم يكن له أب معروف نسبوه إلى ولائه فإن لم يكن له ولاء معروف قال له يا أخي يعني في الدين قال الله تعالى: (إنما المؤمنون إخوة) اھ (سورة الاحزاب:٥،ج:١٤،ص:١١٩، ط: دار الكتب المصرية)
وفی مشکاۃ المصابیح:وعن أبي أيوب قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من فرق بين والدة وولدها فرق الله بينه وبين أحبته يوم القيامة» . رواه الترمذي والدارمي اھ(باب النفقات وحق المملوك،ج:٢،ص:٢٩١،ط:قديمى كتب خانه)
وفي مرقاة المفاتيح:(بين والدة وولدها) أي ببيع أو هبة أو خدعة بقطيعة وأمثالها. وفي معنى الوالدة الوالد، بل وكل ذي رحم محرم(الى قوله)(فرق الله بينه وبين أحبته): أي من أولاده ووالديه وغيرهما (يوم القيامة) : أي في موقف يجتمع فيه الأحباب الخ (باب الاستبراء،ج: ٦، ص: ٢٢٠١، ط: دارالفكر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 96860کی تصدیق کریں
0     43
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات