گناہ و ناجائز

بنات کے مدرسہ کے منتظمین کا معلمات وغیرہ کے ساتھ میل جول رکھنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
96644
| تاریخ :
2026-06-20
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بنات کے مدرسہ کے منتظمین کا معلمات وغیرہ کے ساتھ میل جول رکھنا کیسا ہے؟

السلام عليكم !ً کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ: ایک اسلامی مدرسے کی انتظامیہ کے چند مرد حضرات، وہاں پڑھانے والی خواتین معلّمات ( مدرّسات) کے درمیان اٹھتے بیٹھتے ہیں ، اور ان کے ساتھ ایک ہی جگہ موجود رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کے والدین ( جن میں مائیں بھی شامل ہیں) جب مدر سے آتی ہیں تو یہی مرد حضرات ان سے بھی براہ راست ڈیلنگ کرتے ہیں اور بات چیت سنبھالتے ہیں۔جبکہ مدرسے میں ان تمام امور کو سنبھالنے کے لیے ایک خاتون ناظمہ (لیڈی ایڈ منسٹریٹر) بھی موجود ہیں، جو خواتین مدرسات کے مسائل اور طالبات کی ماؤں کے ساتھ معاملات کو شرعی حدود میں رہ کر با آسانی حل کر سکتی ہیں۔ اس خاتون ناظمہ کی موجودگی کے باوجود، انتظامیہ کے مرد حضرات کا خواتین کے عملے کے ساتھ مستقل بیٹھنا اور نا محرم خواتین سے براہ راست میل جول رکھنا جاری ہے، جس کی وجہ سے مدرسے میں شدید بے پردگی اور اختلاط مردو زن (مردوں اور عورتوں کا اکٹھا ہونا) کا مسئلہ در پیش رہتا ہے۔براہ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں،:
کیا شرعی نقطۂ نظر سے انتظامیہ کے ان مرد حضرات کا خاتون ناظمہ کی موجودگی کے باوجود خواتین مدرسات کے درمیان بیٹھنا اور ماؤں سے ڈیل کرنا جائز ہے ؟شریعت میں مردوزن کے ایسے اختلاط اور بے پردگی کا کیا حکم ہے، خصوصاً ایک ایسے ماحول میں جو خود دین کی سربلندی اور اخلاقیات سکھانے کا ادارہ ہو ؟ ایسی صور تحال میں مدرسے کی انتظامیہ ، معلمات اور وہاں آنے والی خواتین کے لیے پر دے اور شرعی حدود کے لحاظ سے کیا احکامات ہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ مىں جبكہ مذكور مدرسة البنات كے انتظام وانصرام كے لىے خاتون ناظمہ ، معلمات اور ديگر ذمہ دار خواتين موجو د ہىں، تو خواتين كے تعليمى ، انتظامى اور تربيتى أمور بہر صورت انہىں كے ذريعہ انجام دىئے جانے كا اہتمام چاہىئے، چنانچہ مرد حضرات كى مذكورہ بالا أمور مىں براه راست مداخلت اور مطالبات او ران كى خواتىن أولياء كے ساتھ نشست وبرخاست خلاف شرع اور فتنہ پر مشتمل ہونے كى وجہ سے شرعاً جائز نہىں ، لہذا مدرسہ كے ذمہ داران كو في الفور اپنے اس ناجائز عمل كو ترك كركے مدرسہ كا انتظام و انصرام شرعى حدود كى پابندى كے ساتھ انجام دىنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: وفي الأشباه: الخلوة بالأجنبية حرام (إلى قوله) ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها لا يرد السلام عليها وإلا لا انتهى، وبه بان أن لفظه لا في نقل القهستاني، ويكلمها بما لا يحتاج إليه زائدة فتنبه إلخ
وفي رد المحتار: (قوله وإلا لا) أي وإلا تكن عجوزا بل شابة لا يشمتها، ولا يرد السلام بلسانه قال في الخانية: وكذا الرجل مع المرأة إذا التقيا يسلم الرجل أولا، وإذا سلمت المرأة الأجنبية على رجل إن كانت عجوزا رد الرجل عليها السلام بلسانه بصوت تسمع، وإن كانت شابة رد عليها في نفسه، وكذا الرجل إذا سلم على امرأة أجنبية فالجواب فيه على العكس اهـ. وفي الذخيرة: وإذا عطس فشمتته المرأة فإن عجوزا رد عليها وإلا رد في نفسه اهـ وكذا لو عطست هي كما في الخلاصة (قوله في نقل القهستاني) أي عن بيع المبسوط (قوله زائدة) يبعده قوله في القنية رامزا ويجوز الكلام المباح مع امرأة أجنبية اهـ وفي المجتبى رامزا، وفي الحديث دليل على أنه لا بأس بأن يتكلم مع النساء بما لا يحتاج إليه، وليس هذا من الخوض فيما لا يعنيه إنما ذلك في كلام فيه إثم اهـ فالظاهر أنه قول آخر أو محمول على العجوز تأمل، وتقدم في شروط الصلاة أن صوت المرأة عورة على الراجح ومر الكلام فيه فراجعه.اهـ (كتاب الحظر والإباحة، ج: 6، ص: 369، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار أيضا: (فإن خاف الشهوة) أو شك (امتنع نظره إلى وجهها) فحل النظر مقيد بعدم الشهوة وإلا فحرام وهذا في زمانهم، وأما في زماننا فمنع من الشابة قهستاني.إلخ
وفي رد المحتار: (قوله وأما في زماننا فمنع من الشابة) لا لأنه عورة بل لخوف الفتنة كما قدمه في شروط الصلاة.اهـ (كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس، ج: 6، ص: 370، ط: إيج إيم سعيد)
وفي المحيط البرهاني: المرأة إذا أرادت تعلم القرآن من الأعمى جاز، ولكن التعلم من المرأة أولى؛ لأن صوتها عورة اهـ (كتاب الاستحسان والكراهية، ج: 5، ص: 315، ط: دار الكتب العلمية بيروت لبنان)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 96644کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات