گناہ و ناجائز

بیعانہ ضبط کرنے اور کرنسی ٹو ڈی ویلیو کا نقصان لینے کا حکم

فتوی نمبر :
96373
| تاریخ :
2026-06-13
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بیعانہ ضبط کرنے اور کرنسی ٹو ڈی ویلیو کا نقصان لینے کا حکم

السلام علیکم! مفتی حضرت، رہنمائی فرمائیں!
ایک پراپرٹی دو پارٹنرز نے فروخت کرنے کی غرض سے خریدی۔ اس پراپرٹی کا ٹوکن ہو گیا، لیکن خریدنے والی پارٹی نے کچھ رقم ادا کرنے کے بعد باقی رقم ادا نہیں کی۔ پانچ سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ ادائیگی میں ٹال مٹول کرتی رہی اور آخرکار ڈیفالٹر ہو گئی،اس مسئلے میں دو چیزوں کی وضاحت مطلوب ہے:جو رقم خریدار پارٹی نے ادا کی تھی، کیا وہ قرض شمار ہوگی یا کچھ اور؟اب اس رقم کو واپس کرنے کے حوالے سے کیا احکامات لاگو ہوں گے؟اب پراپرٹی کو دوبارہ فروخت کیا جا رہا ہے، لیکن یہ پہلے طے شدہ قیمت سے کم قیمت پر فروخت ہو رہی ہے، جبکہ ویلیو ٹو منی کا نقصان الگ ہے۔
اس صورت میں ادائیگی نہ کرنے والی ڈیفالٹر پارٹی پر نقصان منتقل کرنے کی کیا صورت ہوگی؟ اور اس نقصان کا حساب کرنے کے لیے کس چیز کو بنیاد (بینچ مارک) بنایا جائے گا؟مفتی حضرت رہنمائی فرمائیں، جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ اگر خریدار نے پراپرٹی کی قیمت کا کچھ حصہ بطور بیعانہ ادا کیا ہو اور بعد میں کسی وجہ سے معاملہ منسوخ ہو جائے تو ایسی صورت میں بیعانہ کی رقم خریدار کو واپس کرنا لازم ہے،اپنے پاس روکے رکھنا شرعاً جائز نہیں۔
جہاں تک بروقت ادائیگی نہ کرنے کی بنیاد پر معاملہ فسخ ہونے کی وجہ سے بیچنے والے کو ہونے والے نقصان کے ازالے کا تعلق ہے تو اس کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں، کیونکہ معاملہ فسخ کرنا فقہی اعتبار سے اقالہ کہلاتاہے اور اقالہ ثمن اول پر ہوتا ہے،اس سے کم یا زیادہ پر نہیں ہوتا، لہذا بائع کیلئے ٹوکن منی کے ذریعہ نقصان کی تلافی کرنا یا اس سے مزید رقم کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما روی البخاری بسندہ: عن أبي هريرة رضي الله عنه:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (مطل الغني ظلم، فإذا أتبع أحدكم على ملي فليتبع).(کتاب الحوالات،باب فی الحوالۃ وھل یر جع فی الحوالۃ،ج:2، ص:799،ط:دار ابن الکثیر)
وفی فقہ البیوع: العربون و العربان بیع فسره ابن منظور بقوله: هو أن یشتری السلعة و یدفع إلی صاحبها شیئا علی أنه إن أمضی البیع حسب من الثمن، و إن لم یمض البیع کان لصاحب السلعة و لم یرتجعه المشتری. و هو مصدر لعقد مثل هذا البیع، و قد یطلق العربون علی المبلغ المدفوع إلی البائع تسمیة للمفعول باسم المصدر…………….. و اختلف الفقهاء فی جواز العربون، فقال الحنفیة و المالکیة و الشافعیة و أبو الخطاب من الحنابلة: إنه غیر جائز، و روی المنع عن ابن عباس رضی الله عنهما و الحسن البصری رحمه الله تعالی. (العربون و احکامہ،ج:1،ص:113،ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی)
وفیہ ایضا: الإقالة في اللغة بمعنى الرفع و الإزالة ، و في الفقه : رفع العقد و إلغاء حكمه بتراضي الطرفين بأن يرد البائع المبيع ، و يرد المشترى الثمن ، و الأصل في جواز ذلك و استحبابه إذا طلب أحد المتعاقدين ذلك ما روى عن أبي هريرة رضى الله تعالى عنه : أن رسول الله - صلى الله عليه و سلم - قال: "مَن أقال مسلما ، أقاله الله عثرته "(باب الاقالۃ:ج:2،ص:205،ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 96373کی تصدیق کریں
0     19
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات